بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عید الاضحیٰ سے پہلےبیوپاری کا چمڑے خریدنا


سوال

عید الاضحیٰ کے موقع پر بیوپاری حضرات عید سے دو تین دن پہلے چمڑوں کے خریدنے کا معاملہ طے کرتے ہیں کہ چھوٹے ،بڑے ، درست اور خراب سب طے شدہ ریٹ پر ہونگے اور بیعانہ کے طور پر کچھ رقم بھی دے دیتے ہیں، تو کیا یہ بیع معدوم تو نہیں ہوگی اور شریعت  کی رو سے یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جوچیزفروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہواس کی بیع باطل ہوتی ہے، تاہم اگرباقاعدہ خریدوفروخت کی بجائے صرف آئندہ خرید و فروخت کا وعدہ کیا جائے اور پھر جب مبیع موجود ومتعین ہو جائے، تواس وقت خرید وفروخت کا معاملہ کیا جائے تواس طرح کرنا جائزہے۔

صورت مسئولہ میں عید الاضحیٰ کےموقع پر بیوپاری حضرات عید سے پہلے چمڑوں کے خریدنے کا جو معاملہ طے کرتے ہیں، اگر اس سے مقصود محض خریداری کا وعدہ ہواور پھرعید کے روز باقاعدہ ایجاب وقبول یا تعاطی کے ساتھ معاملہ طے کیا جائے توایسا کرنا جائزہے، لیکن اگرعید سے پہلے باقاعدہ بیع ہوتی ہو، تویہ جائز نہیں۔

 

ومنها أن يكون مملوكا؛ لأن البيع تمليك، فلا ينعقد فيما ليس بمملوك  وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم. (بدائع الصنائع ، کتاب البيوع، فصل: وأما الذي يرجع إلی المعقود عليه، ج:5، ص:147)

(‌وما ‌لا ‌تصح) ‌إضافته (‌إلى ‌المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال. (ردالمحتار على الدر المختار، مطلب ما يصح إضافته وما لا تصح، ج:5، ص:256)


فتویٰ نمبر : 3849/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں