بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک دکاندارکا دوسرے دکاندارسےکوئی چیزلےکرفروخت کرنا


سوال

اگرکوئی گاہک کسی چیزکی طلب کرے جو ہماری دکان میں موجود نہ ہو، تو ہم وہ چیز کسی دوسری دکان سےاُس دکاندارکی اجازت سےلاکر گاہک کودکھاتے ہیں، اگرگاہک کو پسند آجائےتوہم وہ چیزاسے بیچ دیتے ہیں، اوراگروہ نہ لےتوچیزواپس اصل دکاندار کولوٹا دیتے ہیں۔ کیا یہ خرید و فروخت کا طریقہ شرعاً درست ہے؟

جواب

اگرکسی دکاندار کے پاس گاہک کی مطلوبہ چیز نہ ہواوروہ دوسرے دکاندارسے وہ چیزلا کرگاہک پرنفع کے ساتھ فروخت کرے تو یہ شرعا جائز ہے، کیونکہ عام طور پرایک دکانداردوسرے دکاندارسے وہ چیزخرید لیتا ہے، اگرچہ ایجاب وقبول کے صریح الفاظ استعمال نہ ہوں، چنانچہ یہ بیع تعاطی ہوتی ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں دکانداروں کے مابین مبیع کی قیمت متعین ہو، تاکہ بیع فاسد نہ ہو،پھراگرگاہک دکاندارسے وہ چیز خرید لے تو ٹھیک، لیکن اگرگاہک نہ خریدے تو ایسی صورت میں پہلا دکاندار دوسرے دکاندارکووہ چیز واپس لینے پرمجبورنہیں کرسکتا، البتہ اگروہ خوشی اور رضامندی سےواپس لے لے تواس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

 

(وأما) ‌المبادلة ‌بالفعل فهي التعاطي ويسمى هذا البيع بيع المراوضة وهذا عندنا... والدليل عليه قوله عز وجل ﴿إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾  (النساء: 29)، والتجارة عبارة عن جعل الشيء للغير ببدل وهو تفسير التعاطي. (بدائع الصنائع،كتاب البيوع،فصل في شرائط ركن البيع،ج:5،ص:134)

(ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع.(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5،ص:156)

 


فتویٰ نمبر : 3850/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں