بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر تقسیم شدہ میراث پر حج و زکوٰۃ


سوال

 ایک عورت کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے اور ماں کی میراث میں اس عورت کا اتنا حصہ بنتا ہے کہ اگر وہ اسے وصول کرے تو اس پر حج اور زکوٰۃ دونوں فرض ہو جائیں گے۔ لیکن ابھی تک میراث کی تقسیم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی وہ عورت اپنا شرعی حصہ وصول کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کیا اس عورت پر حج اور زکوٰۃ فرض ہو چکے ہیں یا نہیں؟

جواب

اسلام نے ہر مسلمان کو مالی اور معاشرتی معاملات میں عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے، اور حقوق کی ادائیگی کو نہایت اہمیت دی ہے۔ انہی میں سے ایک اہم حق وراثت کا ہے، جو شریعت کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ ۔ جب کوئی شخص دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کا مال و دولت اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہےنیزمالِ میراث تقسیم سے پہلے اگرچہ ورثا ء کی ملکیت میں ہوتا ہے، لیکن جب تک باقاعدہ تقسیم نہ ہوہر وارث کا حصّہ دین ضعیف کے حکم میں ہوتا ہے۔اور دین ضعیف پر قبضہ سے پہلےزکوٰۃواجب نہیں ہوتی ، اس لیے ترکہ پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ اس کو  شرعی ورثاء کے درمیان ان کے حصص کے مطابق  تقسیم نہ کردیا جائے،اسی طرح زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مال پر ملکیت کے ساتھ اس پر قبضہ بھی ہو، 

لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق اگر عورت پہلےسےصاحب نصاب نہ ہو اور ابھی میراث کی تقسیم نہ ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں نہ اس پر زکوٰۃ لازم ہےاور نہ ہی حج فرض ہوگا ۔

 

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسيرالزكاةوصفتهاوشرائطها،ج:1،ص:172)

وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الزكاة،فصل الشرائط التي ترجع إلى المال،ج:2،ص10)                                


فتویٰ نمبر : 10611/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں