بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طوافِ وداع سے پہلےعمرہ ادا کرنا


سوال

  طواف وداع کرنے سے پہلے عمرہ کرناکیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عمرہ کے لیے حج کی طرح مخصوص ایام مقرر نہیں ،بلکہ کوئی بھی شخص پورے سال میں عمرہ ادا کر سکتا ہے،البتہ حج کے ایام (ذی الحجہ کےنو،دس،گیارہ،بارہ،تیرہ تاریخ)میں عمرہ ادا کرنا مکروہ  تحریمی ہے،لہذااگر کوئی شخص ایام حج کے بعد عمرہ  ادا کرنا چاہے تو بلا کراہت جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق طواف وداع کرنے سے پہلےایام حج کے بعدعمرہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں ۔

 

ومن نفر ولم يطف للصدر فإنه يرجع ما لم يجاوز الميقات فإن ذكر بعد مجاوزة الميقات لم يرجع فإن رجع رجع بعمرة، وإن عاد بعمرة ابتدأ بطوافها فإذا فرغ من عمرته طاف للصدر كذا في السراج الوهاج."(الفتاوى الهندية،كتاب االمناسك،باب مواضع رمىي الجمار ج:1،ص235)

(وتكره يوم عرفة ويوم النحر وأيام التشريق) لما روي عن ابن عباس لا تعتمر في خمسة أيام واعتمر فيما قبلها وبعدها(تبين الحقائق شرح كنزالدقائق،كتاب الحج،العمرة حكمهاوأركانها،ج:2،ص:82)


فتویٰ نمبر : 10611/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں