بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح نامہ میں اصلی نکاح خواں کی جگہ کسی اور کے دستخط کرنے کا حکم


سوال

اگر نکاح نامہ میں اصل نکاح خواں کی جگہ کوئی دوسرا شخص اپنا نام اور دستخط کر دے، تو کیا یہ شرعی طور پر درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دستخط صرف ایک نشان یا لکھائی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی شرعی حیثیت زبان سے بولے گئے الفاظ کی طرح ہوتی ہے۔ جیسے زبان سے کوئی جھوٹ بولنا یا کسی کو زبانی دھوکہ دینا گناہ ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی جھوٹی بات پر دستخط کرتا ہے، یا کسی ایسے کاغذ پر دستخط کرتا ہے جس میں غلط معلومات درج ہوں، تو یہ بھی جھوٹ اور دھوکہ میں شمار ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں نکاح خواں ایک ہو اور دستخط دوسرا ادمی کرے تو یہ دھوکہ اور جھوٹ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے۔البتہ اگرکسی سے  تجدید نکاح کروایاجائےتو پھر اس شخص کے لئےنکاح نامہ پر دستخط کی گنجائش ہوگی۔

 

عن عائشة قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أفلي رأس أخي عبد الرحمن، وأنا أقصع أظفاري على غير شيء، فقال: مهلا يا عائشة أما علمت أن هذا من كذب الأنامل.)كنزالعمال في سنن الأقوال والأفعال،الكتاب الثالث في الأخلاق،الباب الثاني في الأخلاق المذمومة ،ج :3،ص:877،رقم الحديث  9004)

الكتاب كالخطاب( دررالأحكام في شرح مجلة الأحكام،المادة69،ج:1،ص:69)


فتویٰ نمبر : 6357/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں