بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفرِ شرعی میں مدتِ اقامت متعین نہ ہو تو قصر کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص شرعی مسافت (تقریباً78 کلومیٹر یا 48 میل) کا سفر کرے، لیکن اپنی منزل پر قیام کی کوئی معین مدت (مثلاً 15 دن یا 10 دن) کی نیت نہ بنائے،بلکہ  یہ کہے کہ "جب کام ہو جائے گا واپس چلا جاؤں گا"تو کیا ایساشخص  قیام کے دوران قصر نماز ادا کریگا یا پوری نمازپڑھے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مسافتِ سفر( 48میل یا 78  کلومیٹر) یا اس سے زیادہ کے سفر پر جائے اور منزل پر پہنچ کر وہاں پندرہ دن یااس سے زیادہ دن ٹھہرنےکاارادا   نہ ہو بلکہ یہ نیت ہو کہ جب بھی کام ہوجائے تو واپس چلا جاؤں گا، تو ایسی صورت میں وہ شخص قصر نماز اداکرے گا، چاہے وہ جتنے بھی دن وہاں ٹھہرارہے۔

 

‌ولو ‌بقي ‌في ‌المصر ‌سنين ‌على ‌عزم أنه إذا قضى حاجته يخرج ولم ينو الإقامة خمسة عشر يوما قصر، كذا في التهذيب.( الفتاوى الهندية، کتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:139 )

(‌أو ‌دخل ‌بلدة ‌ولم ‌ينوها) أي مدة الاقامة (بل ترقب السفر) غدا أو بعده (ولو بقي) على ذلك (سنين)...يصلي ركعتين.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ص:106 )

(قوله أو دخل بلدة) أي لقضاء حاجة أو انتظار رفقة.(قوله ولم ينوها) وكذا إذا نواها وهو مترقب للسفر كما في البحر لأن حالته تنافي عزيمته.( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:126 )


فتویٰ نمبر : 10615/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں