بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تقسیم سے پہلے خاتون کا اپنے باپ کی مشترکہ جائیداد سے دستبردار ہوجانا


سوال

اگر ایک خاتون اپنے باپ کی مشترکہ جائیداد سے بلا جبر واکراہ دستبردار ہوجائے یا اپنا حصہ بھائیوں کو دیدےمشترکہ جائیداد کی تقسیم سے پہلے پہلے تو کیا یہ فعل شرعا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میراث اور ترکہ میں جائیداد کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےتو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد جس کسی  کو دینا چاہےتودے سکتا ہے یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے، اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو)  صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ بھی درست ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق ایک عورت اپنے باپ کی مشترکہ جائیداد کی تقسیم سے پہلے اپنے حصے سے بلا عوض دستبردار ہوجائے،تو یہ شرعاً  معتبر نہیں ہے،یعنی دستبردار ہونے کے بعدبھی  وہ عورت   اپنے حصےکا مطالبہ کرسکتی ہے ۔

 

‌الإرث ‌جبري ‌لا ‌يسقط ‌بالإسقاط.( تكملة رد المحتار على الدر المختار، كتاب الدعوى، ‌‌باب التحالف، ج:8، ص:116 )

‌وفيها: ‌ولو ‌قال ‌تركت ‌حقي ‌من ‌الميراث ‌أو ‌برئت ‌منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لأن الإرث جبري لا يصح تركه.( تكملة رد المحتار على الدر المختار، كتاب الدعوى، باب دعوى النسب، ج:8، ص:208 )

لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك.( الأشباه والنظائر، ‌‌الفن الثالث: الجمع والفرق، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود، ص:272 )


فتویٰ نمبر : 3779/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں