بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض یا نفاس میں فوت ہونے والی عورت کو غسل دینا


سوال

اگر کسی عورت کا حالت حیض یا نفاس میں انتقال ہو جائے تو کیا اس کو غسل دیا جائے گا  یا نہیں ؟اور کتنی دفعہ دیا جائے گا؟

جواب

واضح رہےکہ اگر عورت حیض یا نفاس کی حالت میں مر جائے تو اس کو بھی عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا،کیونکہ غسل کے اعتبار سے حائضہ اور غیر حائضہ یا  نفاس اور غیر نفاس والی عورت میں کوئی فرق نہیں ہے،ان کو عام میت کی طرح ایک ہی دفعہ غسل دیا جائے گا، حیض یا نفاس کی وجہ سے ان کو دو  بار غسل  نہیں دیا جائےگا۔

 

(‌ويوضأ) ‌من ‌يؤمر ‌بالصلاة (‌بلا ‌مضمضة ‌واستنشاق) للحرج، وقيل يفعلان بخرقة، وعليه العمل اليوم، ولو كان جنبا أو حائضا أو نفساء فعلا اتفاقا تتميما للطهارة.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ص:117 )

‌ويغسل ‌إن ‌قتل ‌جنبا أو صبيا مجنونا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - هكذا في التبيين وكذا تغسل إن قتلت حائضا أو نفساء إن طهرتا وتم الانقطاع فإن لم ينقطع تغسل إن صلح المرئي حيضا في الأصح، هكذا في الكافي.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب في الجنائز، ج:1، ص:168 )


فتویٰ نمبر : 10615/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں