بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل اثاثوں میں زکاة كا حكم


سوال

ایک گرافک ڈیزائنر فری لانسنگ کے ذریعے ڈیجیٹل فائلیں بناتا اور فروخت کرتا ہے۔ کیا اس کے پاس موجود ڈیجیٹل اثاثوں، جیسے کہ ٹیمپلیٹس، ای بک، یا ویڈیوز پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسلامی نقطہ نظر سےکسی بھی ایسی چیز پر زکوٰۃ واجب ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہو ،اور اس سے منافع حاصل ہو رہا ہو، اس لیے اگر کوئی گرافک ڈیزائنر ڈیجیٹل ٹیمپلیٹس، ای بکس یا ویڈیوز بناتا ہے اور انہیں فروخت کرتا ہے، تو ان اثاثوں کی مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی،اگرمالیت نصاب تک پہنچتی ہو، اوراس پر سال بھی گزراہو ۔

 

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب " لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.( الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الزکاۃ، فصل في العروض، ج:1، ص:103 )

ويشترط فيها الحول والنصاب، وهل يعتبر النصاب في طرفي الحول، أو في جميعه، أو في آخره؛ فيه ثلاثة أقوال، أصحها: اعتبار الآخر.( الغاية في اختصار النهاية، کتاب الزكاة ، باب زكاة العروض، ج:2، ص:342 )


فتویٰ نمبر : 10615/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں