بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دھوکے سے ملاہواجعلی نوٹ کسی اور کو دینے کا حکم


سوال

اگر ایک بندے کو  کسی نے  جعلی نوٹ دیا ہو ،جس کا اسے پتہ نہ چلا ہو  کہ کس نے اسے دیا ہے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ مثلا اگر نوٹ 5000 کا ہو تو اتنے پیسے آدمی کا ضائع کرنا (یعنی ایسا نوٹ آگے کسی کو نہ دینا) ایک مشکل کام ہے، تو کیا وہ نوٹ کسی دوسرے کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کو جعلی نوٹ دینا  جعل سازی، دھوکا اور فراڈ  ہونے کی وجہ سے شرعاً اور قانوناً  ناجائز اور حرام ہے،  لیکن اگر  کسی کودھوکہ دے کر جعلی نوٹ دیا گیاتو  شرعاً اس کے لیے کسی اور کو وہ جعلی نوٹ دے کر دھوکا دینا قطعاً جائز نہیں ہے،شریعت یہ اجازت نہیں دیتی کہ اپنےنقصان کو دور کرنے کے لیے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جائے  ۔

 

قال الله تعالى: ﴿ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ ﴾ سورة البقرة:2/279

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا ضرر ولا ضرار".( سنن ابن ماجه، أبوب الأحكام، باب من بنى في حقه ما يضر بجاره، ج:3، ص:432 )

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"‌يطبع ‌المؤمن ‌على ‌الخلال ‌كلها إلا الخيانة والكذب"( مشكاة المصابيح، كتاب آداب، باب حفظ اللسان، الفصل الثالث، ج:3، ص:1364 )

"الضرر لا يزال بالضرر أو بمثله"، معنى هذه القاعدة: أي أن الضرر يزال في الشرع إلا إذا كانت إزالته لا تتيسر إلا بإدخال ضرر مثله على الغير، فحينئذ لا يرفع ولا يزال بضرر مثله، ولا بما هو فوقه بالأولى، ولا بما هو دونه، فلا يزال ضرر امرئ بارتكاب ضرر امرئ آخر. ( القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة، ‌‌الباب الأول القواعد الفقهية الأساسية، ‌‌القاعدة: [22] 3- الضرر لا يزال بمثله، ج:1، ص:215 )

رد ‌العدليات ‌من ‌له ‌بصارة ‌على ‌أنها ‌زيف فليس له أن يدفع إلى من يأخذها مكان الجيدة لأنه تلبيس وغدر.( الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية،الباب السابع والعشرون في القرض والدين،ج5،ص367 )


فتویٰ نمبر : 6361/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں