بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حائضہ اور نفاس والی عورت کا میت کے پاس بیٹھنا


سوال

میت کے پاس حائضہ اور نفاس والی عورت کا  بیٹھنا شرعا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بندہ جب قریب الموت ہوجائے،تو مستحب یہی ہے کہ اس کے اہل وعیال،  رشتہ داراور دوست واحباب اس کے پاس ہوں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں اورنرمی سے اس کو کلمہ توحید کی تلقین کریں  ۔ میت کے پاس حائضہ اور نفاس والی عورت کےبیٹھنے کے  حوالے سے فقہاے کرام   کی عبارات مختلف ہیں  لیکن راجح یہی ہےکہ شرعا ان کو میت کے پاس بیٹھنے کی اجازت ہے۔

 

وقال ابن عباس رضي الله عنهما: المسلم لا ينجس حيا ولا ميتا. وقال سعيد: لو كان نجسا ما مسسته. وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "‌المؤمن ‌لا ‌ينجس".( الصحيح للبخاري، كتاب الجنائز، باب: غسل الميت ووضوئه بالماء والسدر، ج:1، ص:422 )

ولا يمتنع‌‌ حضور الجنب والحائض وقت الاحتضار، وإنما يوجه إلى القبلة على يمينه؛ لأنه السنة المنقولة.

( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الجنائز، حضور الجنب والحائض وقت الاحتضار، ج:2، ص:184 )

( قوله ويخرج من عنده إلخ ) في النهر وينبغي إخراج الحائض إلخ وفي نور الإيضاح واختلف في إخراج الحائض إلخ.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:193 )

‌ويخرج ‌من ‌عنده الحائض والنفساء كما في المعراج وقال الكمال لا يمتنع حضور الجنب والحائض وقت الاحتضار.( درر الحكام شرح غرر الأحكام، باب الجنائز، ما يفعل بالمحتضر، ج:1، ص:159 )


فتویٰ نمبر : 10615/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں