بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنے جائز حق کے حصول کے لیے رشوت دینا


سوال

میں ایک ادارے میں ملازم ہوں جب ہم ادارے میں اپنا نکاح نامہ یا دوسرے کاغذات کودرج کراتے ہیں تو وہاں پرموجود کلرک ہم سے 2000  روپے کا مطالبہ کرتے ہیں اسی طرح جب ہم تھانے سے ویرفیکیشن کراتے ہیں توجب تک ان کودو سے تین ہزار تک روپے نہ دئے جائیں تو وہ بے جا کام کو طول دیتے ہیں اورکام کو بے جامؤخر کرنے کے لیے فضول بہانے بناتے ہیں،اسی طرح جب ہم پینشن کا کیس بناتے ہیں تو اس میں بھی ہم سے مطالبہ ہوتاہے اگرروپے نہ دئے جائیں تو سالوں سال تک آپ کا کیس وہاں پربے کار پڑا رہتاہےاسی طرح جب ہماری پروموشن ہوتی ہےتواس میں بھی جب تک ان کوروپے نہ دئے جائیں تووہ بے جا اس  کام میں تاخیر کرتے ہیں مندرجہ بالا صورتوں میں اگر ہم روپے دیتے ہیں تو وہ رشوت بنتی ہے اوراگر نہیں دیتے تو ہمارا کام یا تو نہیں کیا جاتا یا پھر بے جا سالوں سال مؤخر ہوجاتا ہےاس جیسی صورت حال میں ہمارے لیے شرعی حل کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رشوت دے کر ناجائزاورغلط طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنا یا کسی صاحب حق کا حق چھیننا ایک عظیم جرم اور سخت گناہ ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی چیز کا حق دار ہواوررشوت کے بغیر اس کی وصولی ناممکن ہوتوایسی حالت میں رشوت دے کر اپنے حق کو وصول کرنے کی گنجائش ہے، البتہ رشوت لینے والے کے لیے لینا بہر حال نا جائز اور حرام ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مندرجہ بالا صورتوں میں سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مسائل کو پہلے رشوت کے بغیر حل کرنے کی  ہر ممکن کوشش کرے،لیکن اگر کوشش کرنے کے باوجود بھی رشوت کے بغیر کام نہ ہوسکتاہوتواپنے حق کے حصول کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے،لیکن لینے والے کےلیے بہرحال حرام ہوگا۔

 

إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله، فهو حرام على الأخذ غير حرام على الدافع.(شرح المجلة لخالد الأتاسي،الكتاب السادس عشر في القضاء،ج:5،ص:40)

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه، والنبي ﷺكان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه... قال ابن عابدين :دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له.(ردالمحتار على الدر المختار،باب الاستبراء وغيره،ج:9،ص:607)


فتویٰ نمبر : 6352/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں