بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

اعضاء کی وصیت


سوال

ایک شخص نے اپنی زندگی میں وصیت کی ہے کہ میرے موت کے بعد میرے فلاں فلاں عضو فلاں ہسپتال میں دے دیاجائے اب اس وصیت کرنے والے شخص کوڈاکٹروں نے برین ڈیتھ(Brain Death) قرار دیاہے مگر دل کی ڈھڑکن ابھی جاری ہے کیا شرعاً اس شخص  کواسی حالت میں  مردہ مان کر وصیت کے مطابق اس کے اعضاء لیے جاسکتے ہیں ؟کیا اعضاء کی وصیت کرنا جائز ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اعضاء کی وصیت کے مسئلہ میں معاصرعلماءکرام کی دورائے پائی جاتی ہیں،ایک جوازکی اوردوسری عدم جواز کی ۔ دلائل  کی رو سے راجح رائے عدم جواز کی ہے جس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں: 

 (1)وصیت میں اپنی ملکیت کے کسی چیز کی وصیت  کرنا ضروری ہے اور انسان اپنے جسم اوراعضاکاچونکہ مالک نہیں اس لیے وہ ان کی وصیت نہیں کرسکتا۔

(2)جس چیز کی وصیت کی جائے ضروری کہ وہ مالِ متقوم ہویعنی اس کی قیمت لگائی جاسکتی ہوجب کہ اعضامتقوم نہیں،یہی وجہ ہے کہ ان کی بیع وشراکسی کے ہاں بھی جائز نہیں۔

(3) انسانی بدن اوراس کے اعضاجس طرح زندگی میں قابل احترام ہیں اسی طرح موت کے بعد بھی قابل احترام ہیں۔ چنانچہ میت کی ہڈی توڑنے سے احادیث مبارکہ میں منع کیاگیاہے۔ اس کاتقاضہ ہے کہ موت کے بعد میت کے بدن سے چھیڑچھاڑنہ کی جائےکیونکہ یہ اس کے احترام کے منافی ہے۔ اورجب یہ چھیڑچھاڑممنوع ہے تواس کی وصیت بھی ممنوع ہوگی کیونکہ کسی ناجائزکام کی وصیت کرنے کی اجازت نہیں۔

(4) شریعت میں مثلہ حرام ہے،یہاں تک کہ حربی کافرکابھی مثلہ جائزنہیں۔اوریہ عمل کچھ حدتک مثلہ کے مشابہہ ہے۔

(5)  انسان کے پاس اس کاجسم اوراعضاامانت ہیں۔ اللہ تعالی نے یہ بدن عطا کیا ہے تاکہ انسان اس کے ذریعےاس کی نعمتوں سے فیض یاب ہو اوراس کی بندگی کرے۔ امانت  ہونے کی وجہ سے اس کا خیال رکھنے اوراسے نقصان سے بچانےکاحکم دیاگیاہے۔اوراسی وجہ سے خودکشی کو حرام قراردیا گیاہے، کیونکہ یہ اس امانت میں خیانت ہے۔اعضاکی وصیت بھی اس امانت میں خیانت کے مترادِف ہےاس لیے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

(6)  کسی ایک عضوکی وصیت کی اگرگنجائش پیداکی جائے توپھریہ سلسلہ  جاری  رہے گابلکہ ہرعضوکی وصیت جائزہوجائے گی اورنتیجتامردہ کے کئی اعضاکونکالنے کاسلسلہ شروع جائے گا۔

(7) یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر اعضاء کی وصیت کو جائز قراردیا جائے تو یہ اعضاء کی تجارت اوردیگر غیراخلاقی سرگرمیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق چونکہ اعضاء کی وصیت جائزہی نہیں اس لیے برین ڈیتھ کا مریض ہو یا مردہ اس کے اعضاء کو نکالنا جائز نہیں۔

 

 «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النهبى والمثلة.»(صحيح البخاري ،ج:3،ص:135)

عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌كسر ‌عظم الميت ككسره حيا"(سنن أبي داود،ج:5،ص:116)

الوصية: تمليك مضاف إلى ما بعد الموت.(كنز الدقائق،ص:228)

(وأما) الذي يرجع إلى الموصى به، فأنواع منها أن يكون مالا، أو متعلقا بالمال؛ لأن الوصية إيجاب الملك، أو إيجاب ما يتعلق بالملك من البيع...(ومنها) أن يكون المال متقوما، فلا تصح الوصية بمال غير متقوم كالخمر.

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:7،ص:352)

فالموت ‌انقطاع ‌تعلق ‌الروح بالبدن ظاهرا وباطنا والنوم انقطاعه عن ظاهره فقط.(فتح الباري  بشرح البخاري ،ج: ‎2،ص:67)

الموت عبارة عن ‌انقطاع ‌تعلق ‌الروح من البدن وذلك قد يكون ظاهرا فقط وهو النوم ولهذا يقال إنه أخو الموت أو ظاهرا وباطنا وهو الموت المتعارف.(الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري ،ج:22،ص:129)


فتویٰ نمبر : 3778/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں