بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بجلی کےتاروں میں سےتانبا نکال کر بیچنا


سوال

ہم ٹیکے پربجلی کی فٹنگ وغیرہ کا کام کرتے ہیں،بعض اوقات ایک شخص ہمیں عمارت حوالہ کرتا ہےکہ اس میں سے موجود پرانے تار وغیرہ نکال کر از سر نو بجلی کی فٹنگ کریں ،ہم ان  تانبے کےتار وں کو کاٹ کاٹ کر ڈھیر کرتے ہیں پھر ان میں سےتانبا نکال کر اپنے لیے بیچتےہیں،مالک کی طرف سے ہم سے ان تاروں کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی ، تو کیا ہمارے لیے یہ پیسے حلال ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کےلیے دوسرے  کامال بغیر اس کی اجازت کےلینا اوراستعمال کرناجائز نہیں ہے،اوراگرکوئی شخص دوسرے کامال اس کی اجازت کےبغیرلےلے تو یہ "غصب" کےزمرے میں آتاہے ،نیزعقد اجارہ میں مالک کا مال اجیر کےہاتھ میں امانت ہواکر تاہےجس میں اس کےلیے ایسا تصرف جائز نہیں، جس کی مالک نے   اجازت نہ دی  ہو۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرمالک نے ان تاروں کولینے کی واضح اجازت دی ہو تو پھر  ان تاروں میں سےتانبا نکال کر بیچنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر مالک کی رضامندی شامل  نہ ہوتوکسی بھی صورت میں اس کالیناجائز نہ ہوگا۔

 

قال الله تبارك وتعالی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ [الأنفال: 27] 

(المادة 881) الغصب هو أخذ مال أحد وضبطه بدون إذنه ويقال للآخذ غاصب وللمال المضبوط مغصوب ولصاحبه مغصوب منه.(مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الثامن في الغصب والإتلاف، ‌‌المقدمة في بيان بعض الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالغصب، ص:170)

(المادة 891) كما أنه يلزم أن يكون الغاصب ضامنا إذا استهلك المال المغصوب كذلك إذا تلف أو ضاع بتعديه أو بدون تعديه يكون ضامنا أيضا فإن كان من القيميات يلزم الغاصب قيمته في زمان الغصب ومكانه وإن كان من المثليات يلزمه إعطاء مثله. (مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الثامن فی الغصب والاتلاف، الباب الاول، الفصل الاول فی بیان احکام الغصب، ص:172)

(المادة 600) المأجور ‌أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن.(مجلة الأحكام العدلية، الباب الثامن: في بیان الضمانات، الفصل الثانی: في ضمان  المستاجر، ص:112)


فتویٰ نمبر : 3852/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں