بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل کرنسی کی شرعی حیثیت


سوال

ڈیجیٹل کرنسی ایک ادائیگی کا طریقہ ہے جو صرف الیکٹرانک شکل میں موجود ہے اور ٹھوس نہیں ہے۔ کمپیوٹر ، موبائل اور انٹر نیٹ جیسی ٹیکنالوجی کی مدد سے اداروں یا صارفین کے مابین ڈیجیٹل کرنسی منتقل کی جاسکتی ہے۔ اگرچہ یہ جسمانی کرنسیوں (کاغذی کرنسی) کی طرح ہے۔ اور ڈیجیٹل کرنسی مُلکی حد بندی (بارڈر) کی پابندیوں سے آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ فوری لین دین کی اجازت دیتا ہے۔یعنی اس کا لین دین آن لائن نظام کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ کرنسی نہ تو چھاپی جاتی ہے اور نہ ہی جسمانی صورت میں دستیاب ہوتی ہے۔ فقہ ِ اسلامیہ میں "زر" (کرنسی) کی جو تعریفات اور شرائط بیان کی گئی ہیں ان کا ماحصل ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے پھر اس کے تناظر میں سوال پیش کیے جائیں گے۔ زر (مال) کی تعریف میں مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالیہ لکھتے ہیں کہ: "كل شيء يمكن ادخاره ويحمل قيمة، ويُستعمل كوسيط في التبادل، يُسمّى نَقدًا أو زَرًّا." (الشيخ محمد تقي العثماني – الاقتصاد الإسلامي المعاصر) ہر وہ چیز جو محفوظ کی جا سکے، مالیت رکھتی ہو، اور تبادلہ کے طور پر استعمال ہو سکے، وہ 'زر' کہلاتی ہے۔ کرنسی میں بنیادی شرائط تین ہیں جو کہ یہ ہیں : إن للنقد ثلاث خصائص متى توفرت في مادة ما اعتبرت هذه المادة نقدا.الأولى: أن يكون وسيطا للتبادل.الثانية: أن يكون مقياسا للقيم.الثالثة: أن يكون مستودعا للثروة. "زر" کی تین خصوصیات ہیں جس مادہ میں بھی وہ پائی جائیں گی وہ زر شمار ہوگا 1۔ذریعہ مبادلہ ہو 2۔قیمتوں کا پیمانہ ہو 3۔دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو ۔

 حصہ اول: عمومی سوالات (مال/زر کی تعریف کی روشنی میں) 1. کیا "ڈیجیٹل کرنسی" ان صفات پر پوری اترتی ہے؟ اگر نہیں، تو اس میں کیا کمی پائی جاتی ہے؟ 2. شریعت کے نزدیک اگر کسی شے کا جسمانی وجود نہ ہو تو کیا وہ مال کہلا سکتی ہے؟

حصہ دوم: ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق فقہی سوالات 1. ڈیجیٹل کرنسی جیسے بٹ کوائن، ایتھریم وغیرہ کو شریعت میں مال قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں، جبکہ ان کے پیچھے حکومت یا بینک نہیں ہوتا ؟ 2. کیا موجودہ ڈیجیٹل کرنسیاں عرف عام میں قبولیت کی بنیاد پر "ثمنِ عرفی" بن سکتی ہیں؟ 3. کیا ان کرنسیوں سے زکوٰۃ، صدقات، یا تجارت کے دیگر شرعی احکام وابستہ کیے جا سکتے ہیں؟ 4. فقہی اصولوں کے مطابق کرنسی بنانے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے؟ اور کیا پرائیویٹ افراد یا نجی ادارہ کو ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے کی اجازت ہے ؟

حصہ سوم: جدید دور کے تقاضے 1. کیا "مصلحتِ زمانی" کے تحت ڈیجیٹل کرنسی جیسے جدید مالیاتی نظام کو قبول کیا جا سکتا ہے؟ 2. بلاک چین ٹیکنالوجی کی شفافیت اور تبدیلی سے تحفظ کا عنصر کیا شرعی معیار پر پورا اترتا ہے؟ 3. کیا اسلامی مالیاتی نظام میں "کرپٹو کرنسی" جیسے ماڈل کو ضم کرنا ممکن ہے؟

جواب

 ہماری معلومات کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کی حقیقت چونکہ ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئی اور فی الحال یہ ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے جب کہ قانونی سطح پر بھی ابھی تک پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں اسے لیگل کرنسی کی حیثیت حاصل نہیں۔ اسی طرح اہل علم کی آراء بھی اس بارے میں مختلف ہیں۔ لہذا جامعہ عثمانیہ کے دار الافتاء نے اس بارے میں غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ فی الوقت اس بارے میں رائے قائم نہ کی جائے، البتہ مناسب یہ ہے کہ حقیقت واضح ہونے تک اس میں سرمایہ کاری سے احتراز ہی کیا جائے کیونکہ مومنین کی یہ خوبی ہے کہ وہ شبہات سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں بالخصوص جب کہ وہ زندگی کی کوئی لازمی ضرورت بھی نہ ہو۔

 

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (‌الحلال ‌بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله في أرضه محارمه،ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب)(صحيح البخاري ،باب فضل من استبرا لدينه،ج:1 ص:13)


فتویٰ نمبر : 6344/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں