بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

Wi-Fi کے ذریعے دوسرے شخص کا انٹرنیٹ استعمال کرنا


سوال

میرا گھر نادرا آفس کے قریب ہے۔ اور وہاں کے آفس والے بہت سے وائی فائی آن ہوتے ہیں، تو کیا میرے لیے یہ وائی فائی استعمال کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ اگر کسی دوسرے کا وائی فائی استعمال کیا جائے تو اس کے نیٹ کی سپیڈ بھی متاثر ہوتی ہے جس سے اس کو پریشانی ہوتی ہے۔

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ہر انسان کے مال، جان اور عزت کو تحفظ حاصل ہے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی آدمی کے مال اور مملوکہ چیز کو اس کی صریح اجازت یا دلالۃً اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں۔ 

صورت مسئولہ میں کسی دوسرے کے انٹر نیٹ کا استعمال اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، ہاں اگر انہوں نے پاس ورڈ اس غرض سے نہیں لگایا کہ ہر کوئی اسے استعمال کرے تو اس صورت میں یہ ان کی طرف سے دلالۃً اجازت شمار ہو گی، تاہم چونکہ نیت کا یقینی علم کسی کو نہیں ہو سکتا، اس لئے کسی دوسرے شخص کا انٹر نیٹ سروس اس کی صریحی یا دلالۃًاجازت کے بغیر استعمال نہ کیا جائے۔ نیز نادرا آفس سر کارکی ملکیت ہے اور سرکاری املاک پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہے اس وجہ سے اس میں خیانت سے ڈرنا بہت ضروری ہے۔

 

وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ألا ‌تظلموا ‌ألا ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . (مشكاة المصابيح، کتاب البیوع، ‌‌باب الغصب والعارية، ج:2، ص:889)

لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بلا إذنه،أو وكالة منه، أو ولاية عليه، وإن فعل كان ضامناّ۔(شرح المجلة، ماده:95، ص:61)


فتویٰ نمبر : 6409/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں