بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکاۃ


سوال

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو پلاٹ فروخت کرنے  کی نیت سے خریدا جائے، یعنی پلاٹ خریدتے وقت یہ نیت ہو کہ نفع کے ساتھ  اسے فروخت کردوں گا،  ایسا پلاٹ مالِ تجارت ہے، اور مالِ تجارت اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو سال گزرنے پر اس کی زکاۃ واجب ہوتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ پلاٹ فروخت کرنے کی نیت سےخریدا گیا ہے، لہذا  اس پر زکاۃواجب ہوگی، زکاۃکا سال پورا ہونے پر اس پلاٹ  کی اس وقت کی قیمت معلوم کرکے اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) بطورِ زکاۃادا کرنا ہوگا۔

 

‌الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات.(الفتاوى الهندية ،الفصل الثانی في العروض،ج:1،ص:179)

‌لأن ‌الواجب ‌الأصلي ‌عندهما ‌هو ‌ربع ‌عشر ‌العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.(بدائع الصنائع ،فصل صفةالواجب في اموال التجارة،ج:2،ص:22)


فتویٰ نمبر : 10600/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں