بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

کرا یہ داری کا معاہدہ وقت سے پہلے ختم کرنا


سوال

اگرکرایہ دار نے معاہدہ ختم کرنے سے قبل مکان خالی کرایا، لیکن مالک نے املاک کا معائنہ نہ کیا۔ بعد ازاں نقصانات نکالے جائیں، تو کیا ان نقصانات کا ازالہ کرایہ دار کےذمے ہوگا یامالک مکان کےذمے ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کرایہ پر دی جانے والی چیز کرایہ پر لینے والے شخص کے پاس ”امانت“ ہوتی ہے، اس لیے   کرایہ پر دینے کے بعد اگر  اس  چیز  میں کوئی نقصان ہوگیا  یا وہ ضائع ہوگئی تو  اگر  کرایہ پر لینے والی کی تعدی (زیادتی) یا کوتاہی  ہو  اور وہ ثابت بھی ہوجائے تو اس کا ضمان اس کے ذمہ ہوگا، اور اگر تعدی، غفلت اور کوتاہی ثابت نہ ہو تو اس کا ضمان کرایہ دار پر نہیں ہوگا۔ 

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  نقصان ایساہو کہ جس میں کرایہ دار  کی غفلت اورتعدی نہ ہوتوکرایہ دار اس کاذمہ دار نہ ہوگا، اوراگر نقصان ایساہو کہ جس میں کرایہ دار  کی غفلت اورتعدی  ہوتوکرایہ دار اس کاذمہ دار ہوگا۔

 

‌وأما ‌صفة ‌الإجارة ‌فالإجارة ‌عقد ‌لازم ‌إذا ‌وقعت ‌صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر وقال شريح: إنها غير لازمة وتفسخ بلا عذر؛ لأنها إباحة المنفعة فأشبهت الإعارة، ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال سبحانه وتعالى {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: رضي الله عنه " البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلا ينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع.(بدائع الصنائع ،فصل في حکم الإجارۃ،ج:4،ص:201)

‌ولو ‌شرط ‌ثلاثة ‌فسكن ‌في ‌مدة ‌الخيار سقط الخيار ولو انهدم المنزل بالسكنى لا ضمان لأنه سكن بحكم الإجارة وأول المدة من وقت سقوط الخيار. كذا في الوجيز للكردري.(الفتاوى الهندية،الباب الخامس في الخیار في الإجارة والشرط فيها، ج:4،ص:419)

‌وإذا ‌نقص) ‌العقار (‌بسكناه ‌وزراعته ‌ضمن ‌النقصان) بالإجماع فيعطي ما زاد البذر وصححه في المجتبى وعن الثاني مثل بذره وفي الصيرفية هو المختار ولو ثبت له قلعه.(ردالمحتار علی الدرالمختار،مطلب في ردالمغصوب وفیما لوأبی المالک قبوله،ج: 6 ،ص:176)


فتویٰ نمبر : 3846/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں