بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد كا پانى گھر میں استعمال کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں بعض اہل محلہ کے لوگ مسجد کے ٹینکی سے پائپ کے ذریعے اپنے گھروں کو پانی لے جاتے ہیں کیا اس طرح مسجد کے پانی کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد کے لیے وقف شدہ پانی صرف مسجد کی ضروریات تک محدود رہے گا اور مسجد کا پانی گھروں کو لے جانا جائز نہیں، البتہ اگر واقف نے پانی کو وقف کی وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھر کوئی مضائقہ نہیں، لیکن پھر بھی مسجد کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا۔

 

(فإذا تم ولزم لايملك، ولايملك، ولايعار، ولايرهن) قال ابن عابدين: قوله (لايملك) أي لايكون مملوكا لصاحبه، (ولايملك) أي لايقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب فرق أبويوسف بين قوله "موقوفة"، ج: 6، ص: 539)


فتویٰ نمبر : 6339/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں