بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

چپکلی کی بیٹ کا حکم


سوال

ائیر کنڈیشن کی ان ڈور یونٹ میں چپکلی کی بیٹ پڑی تھی اور کچھ جگہ پھنسی ہوئی تھی۔ان ڈور یونٹ سے کبھی کبھی پانی آتا ہے جو انڈور میں پڑی بیٹ سے گزر کر جسم ،کپڑوں یا فرنیچر پر پڑتا ہے۔اور اسکے ڈرین والا پانی باہر ایک بالٹی میں جمع ہوتا ہے جس کو گرا نے سے یہ پانی جسم اور کپڑوں پر لگتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ پا نی  جسم ،کپڑوں اور فرنیچر وغیرہ پر لگ جائے ،تو کیا اس سے یہ نجس ہو گی یا نہیں  ؟

جواب

واضح رہے کہ چپکلی کا بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے، اور  نجاستِ غلیظہ جب کسی چیز میں گر جائے تو وہ چیز نجس ہوجاتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرچپکلی کا بیٹ  یقینی طور پرپانی میں شامل ہو تواس سے  یہ پانی ناپاک  شمار ہو گا۔البتہ صرف شک سےناپاکی ثابت نہیں ہوتی۔

 

(و بول غير مأكول و لو من صغير لم يطعم) إلا بول الخفاش و خرأه ... (و خرء) كل طير لايذرق في الهواء كبط أهلي (و دجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولًا فطاهر و إلا فمخفف (و روث وخثي) أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان غير الطيور. و قالا: مخففة. و في الشرنبلالية قولهما أظهر.

(قوله: أفاد بهما نجاسة خرء كل حيوان) أراد بالنجاسة المغلظة؛ لأن الكلام فيها و لانصراف الإطلاق إليها كما يأتي، و لقوله و قالا: مخففة، وأراد بالحيوان ما له روث أو خثي: أي: سواء كان مأكولا كالفرس والبقر، أو لا كالحمام وإلا فخرء الآدمي وسباع البهائم متفق على تغليظه كما في الفتح والبحر وغيرهما فافهم. (قوله: وفي الشرنبلالية إلخ) عزاه فيها إلى [مواهب الرحمن] لكن في النكت للعلامة قاسم أن قول الإمام بالتغليظ رجحه في المبسوط وغيره اهـ ولذا جرى عليه أصحاب المتون. (رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب الطهارة،باب الانجاس،ج:1،ص: 318)


فتویٰ نمبر : 10665/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں