بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نو مولود بچی پر نماز جنازہ نہ پڑھنا


سوال

اگر ایک پانچ ماہ کا حمل پیدا ہو، اور اس میں زندگی کے آثار (جیسے سانس لینا، حرکت کرنا) واضح طور پر موجود ہوں، لیکن کچھ دیر بعد وہ فوت ہو جائے، اور لاعلمی کی بنا پر نہ اسے غسل دیا جائے، نہ نماز جنازہ پڑھی جائے بلکہ صرف صاف کپڑے میں لپیٹ کر دفنا دیا جائے — تو کیا ایسی صورت میں والدین اور دیگر رشتہ دار گناہگار ہوں گے یا نہیں اور کیا ان پر کوئی کفارہ لازم ہے؟

جواب

واضح رہے جو بچہ یا بچی  زندہ پیدا ہو اور بعد میں مرجائے یا پیدا ہوتے ہی فورا مرجائے، اس کے غسل، کفن، نماز، دفن وغیرہ کے  اَحکام بڑوں کی طرح ہیں، یعنی اسے مسنون غسل اور کفن دیا جائے گا، نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی، پھر دفن کیا جائے گا اور اس کا نام بھی  رکھا  جائے  گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ایک پانچ ماہ کا حمل پیدا ہونے کے وقت اس میں زندگی کے آثار (جیسے سانس لینا، حرکت کرنا) واضح طور پر موجودتھے ، لیکن کچھ دیر بعد وہ فوت ہو ا، اور لاعلمی کی بنا پر نہ اسے غسل دیا گیا، نہ نماز جنازہ پڑھی گئی بلکہ صرف صاف کپڑے میں لپیٹ کر دفنا دیا گیا،تو ایسی صورت میں اگر اُس کے دفن پراتنا وقت گزرا ہوا ہو کہ غالب گمان کے مطابق وہ ابھی تک گلی سڑی نہ ہو گی، تو اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے ،تاہم اگر اُسے دفن کرنے کے بعد اتنا وقت گزرا ہو کہ غالب گمان کے مطابق وہ گلی سڑی  ہوئی ہو گی،تو ایسی صورت میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے ،البتہ اس ناجائز حرکت پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کیا جائے اور کوئی کفارہ لازم نہیں۔

 

و لو دفن الميت قبل الصلاة أو قبل الغسل فإنه يصلى على قبره إلى ثلاثة أيام ، و الصحيح أن هذا ليس بتقدير لازم بل يصلى عليه ما لم يعلم أنه قد تمزق ، كذا في السراجية اھ (الفتاوى الهندية،کتاب الصلوۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز،الفصل الأول فی المحتضر،ج: 1،ص165)

)وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (‌صلي ‌على ‌قبره) ‌استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،ج:2،ص:224)


فتویٰ نمبر : 10603/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں