بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قعدہ اولیٰ میں درود پڑھنا


سوال

چار رکعت والی   نماز  میں اگر کوئی غلطی سے قعدہ اولیٰ میں درود پڑھ لے  تو  کیا اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  سجدہ سہو واجب امور کے ترک کرنے سے یا مؤخر کرنے سے اوریا  رکن کی تاخیر سے واجب ہوتا ہے۔ قعدہ اولی میں تشہد پڑھنے کی بقدر بیٹھنا واجب ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص تین یا چار رکعت کی  نماز پڑھ رہا ہو لیکن قعدہ اولیٰ میں تشہد پورا کر لینے کے بعد قیام کے لیے کھڑا ہونے کی بجائے درودشریف پڑھنا شروع کردے اور "علی محمد"  تک درود پڑھ لے تو اس کا یہ فعل تاخیر رکن شمار ہو گالہذا سجدہ سہو واجب ہوگا۔

 

لو كرر التشهد في القعدة الأولى، فعليه السهو لتأخير القيام،ولو كذا لو صلى على النبي-صلى الله عليه وسلم- فيها لتأخيره.واختلفوا في قدره،والأصح وجوبه باللهم صل على محمد، وإن لم يقل "وعلى آله".(البحر الرائق، کتاب الصلوة، باب سجودالسهو، ج:2، ص:166)


فتویٰ نمبر : 10602/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں