بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرایہ کے گھر میں پانی کا مشین خراب ہوجانا


سوال

ایک شخص نے گھر کرایہ پر لیا ہے اس گھر میں مالکِ مکان نے پانی کا مشین لگایا تھا اب وہ مشین خراب ہوئی ہے  ،اب پوچھنایہ ہے کہ  اس کاتاوان  کرایہ دار ادا کرے گا یا مالک؟

جواب

واضح رہے کہ کرایہ پر دی جانے والی چیز  مالک کی ملکیت میں برقرار رہتی ہے، کرایہ پر  لینے والے کو   اس سےصرف نفع حاصل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، اورکرایہ پر دی جانے والی چیز کو انتفاع کے قابل بنانے اور  ملکیت سے  متعلقہ تمام  ذمہ داری مالک کی ہوتی ہے، جب کہ کرایہ پر دی ہوئی چیز ، کرایہ پر لینے والے شخص کے پاس ”امانت“ ہوتی ہے، اس لیے  کرایہ پر دینے کے بعد اگر  اس  چیز  میں کوئی نقصان ہوگیا  یا وہ ضائع ہوگئی تو  اگر  کرایہ پر لینے والے کی تعدی (زیادتی) یا کوتاہی  ہو  اور وہ ثابت بھی ہوجائے تو تاوان اس کے ذمے ہوگا، اور اگر تعدی، غفلت اور کوتاہی ثابت نہ ہو تو اس کا ضمان کرایہ دار پر نہیں ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ  کے مطابق اگر یہ مشین  کرایہ دار کی تعدی (زیادتی )غفلت یا کوتا ہی سے خراب ہوئی ہو تو اس کا تاوان کرایہ دار پر لازم ہوگا، اور اگر کرایہ دار کی طرف سےتعدی (زیادتی )یا کوتاہی نہ ہو،تو اس کاضمان کرایہ دارپر  نہیں  ہوگا  بلکہ مالک مکان اس کو ٹھیک کرے گا۔

 

(المادة 600) المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحاً أو لم يكن.(المادة 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.(المادة 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه.....مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقهابعنف وشدة فهلكت لزمه ضمان قيمتها.(المادة 607) لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن.(شرح المجلة،الفصل الثاني في ضمان المستأجر:ج:1،ص:326،325،324،323)


فتویٰ نمبر : 3847/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں