بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبرستان کی زمین میں مسجد بنانا


سوال

قبرستان کے لیے زمین وقف کی گئی تھی لیکن اب اس میں مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں اس بارے میں چند سوالات مطلوب ہے:(1)100 سال پرانے قبرستان میں مسجد بنانا کیسا ہے؟جبکہ ہمیں مسجد کی توسیع کی ضرورت ہے(2)وقف کے مالکان وفات ہوئے ہیں، اب ان کے ورثاءمسجد بنانے کی اجازت نہیں دیتےتو کیا ان کو اختیار حاصل ہے یا نہیں؟(3) اس قبرستان میں درخت بھی ہیں، ان کو کاٹ کر پیسے کہاں استعمال کیے جائیں؟(4)اس قبرستان کی کچھ زمین مسجد کے اندر آئی ہے اس میں پڑھی گئی نمازوں کا کیاحکم ہے؟

 

جواب

واضح رہےکہ جب زمین کسی خاص مصرف کےلیے وقف کی جائےاور وقف تام بھی ہوجائےمثلاقبرستان کےلیے وقف کی ہوئی زمین میں اگرایک مرتبہ بھی میت کو دفن کیا جائے تواس سے وقف تام ہوجاتاہے شرعی لحاظ سےاس طرح موقوفہ زمین کو دوسرے مصرف میں استعمال نہیں کیاجاسکتا۔

لہذاصورتِ مسئولہ کے مطابق جب مالکان نے مذکورہ جگہ کو قبرستان کے لیے وقف کیا تھا تو اس جگہ کوصرف قبرستان ہی کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے،لوگوں کا بعد میں اس قبرستان کی زمین پرمسجد تعمیر کرنا درست نہیں ہے، البتہ اگر قبریں بوسیدہ ہوچکی ہوں اور آئندہ اس میں تدفین کی ضرورت نہ ہو اور مسجد کی توسیع ضروری ہو تو پھر گنجائش  موجودہے کہ مسجد تعمیر کرلی جائے، اگر کھدائی کے دوران بوسیدہ ہڈیاں وغیرہ نکلیں تو ان کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں کہیں دفنا دیا جائے۔ اسی طرح اگر موقوفہ  قبرستان کی زمین میں  درخت زمین کے وقف ہونے کے بعد خوداُگے ہوں،تو ان کو قبرستان کی ضروریات میں صرف کرنا ضروری ہے۔مذکورہ مسجد میں ادا کی گئی نمازیں تو  درست ہیں۔

 

فإن قلت: ‌هل ‌يجوز ‌أن ‌تبنى ‌على ‌قبور ‌المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد. وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر ولم يبق حوله جماعة، والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكا لأربابها، فإذا عادت ملكا يجوز أن يبنى موضع المسجد دارا وموضع المقبرة مسجدا وغير ذلك، فإذا لم يكن لها أرباب تكون لبيت المال. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري،كتاب الصلاة،باب الصلاة في مرابض الغنم،ج:4،ص:179)

مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعداتخاذ الأرض مقبرة. ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في (الواقعات الحسامية)....... سئل نجم الدين في مقبرة فيها أشجار:هل يجوز صرفها إلى عمارة المسجد؟ قال: نعم، إن لم تكن وقفا على وجه آخر قيل له: فإن تداعت حيطان المقبرة إلى خراب يصرف إليها أو إلى المسجد قال: إلى ما هي وقف عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متول ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي، كذا في(الظهيرية). (الفتاوی الهندية،کتاب الوقف،الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض،والطرق،والسقایات ج:2،ص:418،417)‌

وعندهما ‌حبس ‌العين ‌على ‌حكم ‌ملك ‌الله ‌تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الوقف،شروط الوقف،ج:3،ص:15)


فتویٰ نمبر : 6340/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں