بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاہک سے رہ جانےوالی رقم یا سامان کو صدقہ کرنا


سوال

اگر دکان پر کوئی گاہک اپنا پیسہ یا کوئی سامان بھول جائے اور واپس نہ آئے، تو کیا اسے صدقہ کےطور پر دیا جاسکتا ہے یانہیں ؟یا اسےاپنے استعمال میں لایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی سے کوئی چیز رہ جائےاور اسے واپس لینے کے لیےنہ آئے،تو جس نے وہ چیز اٹھائی ہواس کو چاہیےکہ وہ چیز مالک کو پہنچانےکی حتی الوسع کوشش کرے اگر مالک معلوم نہ ہو تو اس چیز کی تشہیر کی جائے،تاکہ مالک کو معلوم ہو جائے،اگرتشہیر کرنے کے باوجود بھی  مالک کا پتا  نہیں چلتا تو اس چیزکو مالک کی طرف سے صدقہ کیا جاسکتا ہے،اگراٹھانے والا خود فقیرہو تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے، تاہم مالک   ملنے کے بعد اسے بتایا جائے کہ رقم اس کی طرف سے صدقہ کردی گئی  ہےاگر وہ اس کو قبول کرلے تو صدقہ اس کی طرف سے ہوجائے گا،اور اگر وہ اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو اس   کی  رقم واپس کردی جائے اور صدقہ کا ثواب صدقہ کرنے والے کو ملے گا۔

                لہذا صورت مسئولہ میں دکان دارکو چاہیے کہ دکان پر  پیسہ یا سامان کسی سے رہ جانے والےمالک اگر معلوم ہوتواس  تک پہنچائے ،اگرمالک معلوم نہ ہوتو اس کی تشہیر کی جائےاورمناسب وقت تک انتظار کرے،اگر مالک کا پتہ نہ چلے، تو اسےصدقہ کرسکتا ہے،لیکن اگر مالک بعد میں آئےاوروہ رقم یا سامان کا مطالبہ کرےتو رقم یااس چیزکی قیمت اسےواپس کرنا واجب ہوگا۔

 

‌ثم ‌إذا ‌عرفها ‌ولم ‌يحضر ‌صاحبها مدة التعريف فهو بالخيار إن شاء أمسكها إلى أن يحضر صاحبها، وإن شاء تصدق بها على الفقراء ولو أراد أن ينتفع بها فإن كان غنيا لا يجوز أن ينتفع بها عندنا. ( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب اللقطة، فصل في بيان ما يصنع باللقطة، ج:6، ص:202 )

‌ثم ‌ما ‌يجده ‌الرجل ‌نوعان: نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه كالنوى في مواضع متفرقة وقشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع بها إلا أن صاحبها إذا وجدها في يده بعد ما جمعها فله أن يأخذها ولا تصير ملكا للآخذ، هكذا ذكر شيخ الإسلام خواهر زاده وشمس الأئمة السرخسي - رحمهما الله تعالى - في شرح كتاب اللقطة، وهكذا ذكر القدوري في شرحه. ونوع آخر يعلم أن صاحبه يطلبه كالذهب والفضة وسائر العروض وأشباهها وفي هذا الوجه له أن يأخذها ويحفظها ويعرفها حتى يوصلها إلى صاحبها... ‌إن ‌كان ‌الملتقط ‌محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي.( الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة، ج:2، ص:290/291 )


فتویٰ نمبر : 6343/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں