بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

محرم الحرام میں نئے کاروبار کا افتتاح کرنا


سوال

محرم الحرام میں نئے کاروبار کا افتتاح کرنا شریعت میں کیسا ہے ؟ کاروبار پر اس افتتاح سے کوئی اثر تو نہیں پڑتا؟کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس مہینے میں  کاروبار یا دیگر امور سر انجام دینے سے بے برکتی ہوتی ہےیا پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا،کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں محرم الحرام سمیت سال کے کسی بھی مہینے میں نیا کاروبار شروع کرنا منع نہیں اور نہ کسی خاص مہینے میں کاروبار شروع کرنے سے کاروبار پر کوئی اثر پڑتا ہےاور کسی بھی مہینے کے بارے یہ کہنا کہ اس میں کاروبار یا دیگر امور سر انجام دینے سے بے برکتی ہوتی ہے یا وہ کام اس خاص مہینہ میں شروع کرنے سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا ،یہ فاسد اور لا یعنی  خیالات اور توہمات ہیں جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

لہذا محرم الحرام میں نیا کاروبار شروع کرسکتے ہیں اس مہینے میں  کاروبار یا دیگر امور سر انجام دینے سے بے برکتی ہونے کےخیالات غلط ہیں،شرعاان کا کوئی اعتبارنہیں۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (‌لا ‌عدوى ‌ولا ‌صفر ‌ولا ‌هامة). فقال أعرابي: يا رسول الله، فما بال إبلي، تكون في الرمل كأنها الظباء، فيأتي البعير الأجرب فيدخل بينها فيجربها؟ فقال: (فمن أعدى الأول).( الصحيح للبخاري، كتاب الطب، باب: لا صفر، وهو داء يأخذ البطن، ج:5، ص:2161 )

عن أبي هريرة قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم:قال الله تعالى: ‌يؤذيني ‌ابن ‌آدم، ‌يسب ‌الدهر وأنا الدهر، بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار.( الصحيح للبخاري، كتاب التوحِد، باب: قول الله تعالى: {يريدون أن يبدلوا كلام الله} /الفتح: 15، ج:6، ص:2722 )

‌وروي (‌فإن ‌الله ‌هو ‌الدهر) ‌أي: ‌جالب ‌الحوادث ‌لا ‌غير ‌ردا ‌لاعتقادهم ‌أن ‌جالبها ‌الدهر، كذا في (النهاية).

( لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، کتاب الإیمان، الفصل الأول، ج:1، ص:251 )


فتویٰ نمبر : 6343/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں