بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کے ناشزہ ہونے کی صورت میں مہر کا حکم


سوال

اگر کوئی عورت شادی کے بعد غیر محرم کے ساتھ ناجائز  تعلقات میں ملوث ہو اور شوہر کو ازدواجی تعلق سے بار بار روکتی ہو، شادی کے بعد بھی بہت کم بار صحبت کی اجازت دی ہو ،اور وہ بھی مانع حمل شرط کے ساتھ ،توکیا ایسی عورت ناشزہ شمار ہوگی؟اور اگر عورت ناشزہ ہو، یعنی شوہر کے حقوق ادا نہ کرے، تو کیا وہ مہر کی حقدار باقی رہتی ہے؟براہِ کرم اس پہلو پر شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عورت شادی کے بعد غیر محرم کے ساتھ ناجائز  تعلقات میں ملوث ہو، اور  شوہر کو ازدواجی تعلق (صحبت) سے روکتی ہو، تو ایسی عورت ناشزہ شمار ہوگی،تاہم اگراس عورت سےصحبت ہو چکی ہو، تو وہ پورے مہر کی حق دار رہے گی ، البتہ ناشزہ نفقہ سے محروم رہتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت  ناشزہ ہوگی،اور  ناشزہ  نفقہ کی حقدار نہیں ہوتی ،البتہ وہ مہر کی حقدار ہوتی ہے، کیونکہ مہر ایک واجب حق ہے جو نکاح کے بعد عورت کا حق بن جاتا ہے، اور اس سے دستبردار ہونا یا معاف کرنا عورت کی مرضی پر منحصرہوتا ہے، ناشزہ ہونے کی وجہ سے مہر کا حق ختم نہیں ہوتا۔

 

وقوله تعالى: واللاتي تخافون نشوزهن أي والنساء اللاتي تتخوفون أن ينشزن على أزواجهن، والنشوز هو الارتفاع، فالمرأة الناشز هي المرتفعة على زوجها، التاركة لأمره، المعرضة عنه، المبغضة له، فمتى ظهر له منها أمارات النشوز فليعظها وليخوفها عقاب الله في عصيانه.( تفسير ابن كثير، ج:2، ص:257 )

وهن اللاتي تظنون أو تعلمون منهن الترفع عن حدود الزوجية وحقوقها وواجباتها.( التفسير المنير، ج:5، ص:56 )

‌وإن ‌نشزت فلا نفقة لها، وفسر الخصاف الناشزة، فقال: الناشزة هي الخارجة من منزل زوجها المانعة نفسها منه.( النهاية في شرح الهداية، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:9، ص:132 )

‌والمهر ‌يتأكد ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق.( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، باب فى المهر، فصل فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:303 )


فتویٰ نمبر : 7213/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں