بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف تام ہونے کی وجہ سے موقوفہ زمین کسی اورکودینا


سوال

ایک عورت نے ایک زمین وقف کی جس میں مدرسہ اورمہتمم کے لئے ایک کوارٹربنایا گیا کچھ عرصہ بعد مہتمم کی بیوی نے وقف کرنے والی عورت سے سٹام پیپرپرکوارٹرکواپنے نام کروایا اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا وقف کرنے والی عورت موقوفہ زمین یا کوارٹرکسی کوملکیت کے طورپر دےسکتی ہے یا نہیں اورکیا مہتمم کی بیوی اس کی مالک بن سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف جب تام، ہوجائےتوموقوفہ چیزتا قیامت واقف کی ملکیت سے نکل کراللہ رب العزت کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، چنانچہ وقف  مکمل ہونےکے بعد اس کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کومالک بنانا یا اس کووراثت میں تقسیم کرنا شرعا جائزنہیں۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرواقعتاً مدرسہ کے لیے زمین وقف کی گئی تھی اوراسی وقف زمین میں مہتمم کے لیے کوارٹربنایا گیا تھاتووقف تام ہو نے کے بعد شرعا وقف کرنے والی عورت کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ وہ موقوفہ زمین پرتعمیرشدہ کوارٹرکسی کوملکیت کے طورپردےدے۔

 

وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما. (الفتاوى  الهندية،كتاب الوقف ،ج :2،ص :350 )

فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن. (ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:343)


فتویٰ نمبر : 6342/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں