بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق کی نیت سے نکاح کرنا


سوال

ایک آدمی نے دوسرے ملک میں نکاح کیا تھا،دل میں یہ نیت کی تھی کہ واپس جاتے ہی طلاق دے دے گا۔ کیا ایسا نکاح شرعاً معتبر ہے؟کیا دل کی نیت سے نکاح فاسد ہوجا ئے گا؟

جواب

جاننا چاہیے کہ محض دل میں طلاق کی نیت کرنے سے نکاح متاثر نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر نکاح شرعی طریقے سے گواہان کی موجودگی میں منعقد ہوا تھا تو یہ نکاح جائز ومعتبر ہے دل میں طلاق کی نیت سے نکاح فاسد نہیں ہوتا۔

 

ولو تزوجها مطلقا وفي نيته أن يقعد معها مدة نواها فالنكاح صحيح، كذا في التبيين.(الفتاوى الهندية،الباب الرابع في الاولياء في النكاح،ج:1،ص:283)


فتویٰ نمبر : 7215/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں