بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت کے دوران آن لائن ٹیچنگ کرنا


سوال

کیا کوئی طلاق یافتہ عورت عدت کے دوران اپنے گھرسےآن لائن ٹیچنگ کرسکتی ہے؟ جب کہ اس کے طلبا میں مرد بھی ہیں ؟

جواب

 واضح رہےکہ معتدہ (یعنی عدت گزارنے والی عورت) کے لیے عدت کے دوران بلاکسی شرعی عذر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ البتہ گھر میں ہوتے ہوئے کوئی جائز کام انجام دینا درست ہے۔ نیزیہ بات بھی واضح رہے کہ عورت کے لیے ہرحال میں نامحرم مردوں سے پردہ کرنا لازم ہے، خواہ وہ عدت میں ہو یا عام حالت میں۔ لہٰذاکسی بھی عورت (خواہ وہ معتدہ ہو یاغیر معتدہ) کا بالغ یا قریب البلوغ مردوں کو پردہ کے بغیر تعلیم دیناجائز نہیں، چاہے وہ بالمشافہ ہو یا آن لائن ہو۔ البتہ خواتین یا بچوں کو پڑھانا جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرکوئی عورت آن لائن ٹیچنگ کرتی ہو، اور اس کے طلبا میں صرف خواتین یا چھوٹے بچے ہوں، تو یہ جائز ہے، عدت کے دوران بھی کرسکتی ہے۔ البتہ بالغ نامحرم مرد کو تعلیم دینا (ٹیچنگ) جائز نہیں، خواہ سامنے بیٹھ کر ہو یا آن لائن ہو۔ کیونکہ اس میں فتنہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

 

 (قوله ولا تخرج معتدة الطلاق) لقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] أي: لا تخرجوا المعتدات من المساكن التي كنتم تسكنون فيها قبل الطلاق. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطلاق، باب العدة، فصل في الإحداد، ج:4، ص:165)

‌ولا ‌نجيز ‌لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج:1، ص:285)

‌والغلام ‌الذي ‌بلغ ‌حد ‌الشهوة ‌كالبالغ، ‌كذا ‌في ‌الغياثية. والغلام إذا بلغ مبلغ الرجال، ولم يكن صبيحا فحكمه حكم الرجال، وإن كان صبيحا فحكمه حكم النساء. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر أليه وما لايحل له، ج:5، ص:330)


فتویٰ نمبر : 7209/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں