بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

كمپنی كا ملازم كی تنخواه سے پيشگی اطلاع دیے بغیرچھوڑ نے کی صورت میں کٹوتی کرنا


سوال

حضرات مفتیان کرام! مختلف کمپنیوں (کارپوریٹ اداروں) میں مختلف ملازمین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جاتا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر اگر کوئی ملازمت ختم کرے گا تو اس کو آخری مہینے کی تنخواہ نہیں ملے گی، اسی طرح اگر کمپنی کے ذمے کوئی بونس وغیرہ ہو تو وہ بھی کمپنی ضبط کر لے گی اور ملازمت کے عہد میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں اور تمام ملازمین اس پر دستخط بھی کرتے ہیں۔ ١- مذکورہ صورت میں ملازم اپنی تنخواہ کے مطالبے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟ ٢- ملازم کا اس معاہدے کی رو سے پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑنا کیسا ہے؟ ٣- کسی کمپنی ادارے کا ایسا کرنا درست ہے؟ تنخواہ کے علاوہ مزید بونس وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ ٤- اگر کمپنی کا نقصان ہورہا ہو تو کس حد تک تلافی کی گنجائش ہے؟ ٥- کمپنی اگر معاہدہ نہ کرے تو اسے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ملازم بغیر اطلاع کے چھوڑ دے تو اس کا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس کی وجہ سے کاموں میں تاخیر ہو سکتی ہے، اگر اس طرح درست نہیں ہے تو اس کی متبادل کیا صورت ممکن ہے؟ براہ مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

عقد اجارہ کی رو سے مستاجر اور اجیر خاص کے درمیان مدت اجارہ کی تعیین ضروری ہے اور مقررہ مدت پورا ہونے سے پہلے کسی معتبر ومعقول عذر کے بغیر کسی کیلئے عقد اجارہ فسخ کرنا جائزنہیں۔ لہذا کسی ادارے اور ملازم کے مابین ہونے والے معاہدہ ملازمت میں مفاد عامہ کی خاطر عرف کے مطابق یہ شرط لگا نا جائز ہے کہ ملازم مقررہ مدت اختتام سے قبل طے شدہ طریقہ سے اطلاع دیئے بغیر ملازمت چھوڑ کر نہیں جائے گا۔

لیکن ملازم کی جانب سے بر وقت اطلاع نہ کردینے کی صورت میں ملازم کی ایک ماہ کی تنخواہ کاٹناشرعا ًجائز نہیں، تاہم  پیشگی اطلاع کے بغیر کام چھوڑنے پر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی بناء پر ملازم گناہ گار ہوگا ۔جس ماہ کے آخر تک ملازم اپنا کام اور کمپنی کی جانب سے مفوضہ ذمہ داری سر انجام دے چکا ہواس وقت تک کی تنخواہ کا ملازم مستحق ہے۔ اس لیے تنخواہ ملازم کو اداکرنا لازم ہوگا۔ 

جہاں تک بونس (Bonus) روکنے کا تعلق ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ بونس پورا سال کام کرنے کے ساتھ مشروط تھا تو پھر ایسی صورت میں چونکہ اس نے پورا سال کام نہیں کیا، اس لیے ایسا بونس ضبط کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر بونس کسی مخصوص کام/ٹارگٹ پورا کرنے کے ساتھ مشروط ہو اور ملازم نے وہ ٹارگٹ پورا کرلیا ہو تو اب محض پیشگی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے ایسا بونس روکنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ اگر واقعی ملازم کے پیشگی اطلاع کے بغیر ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے کمپنی کا کوئی حقیقی، مادّی یا تجارتی نقصان ہوا ہو، جیسے؛ بغیر اطلاع چھوڑنے کی وجہ سے کسی کام میں خلل واقع ہوا اور اس کی وجہ سے کمپنی کو کوئی جرمانہ ہوا ہو تو یہ چونکہ حقیقی نقصان ہے، اس نقصان کے بقدر کمپنی ملازم کی تنخواہ یا بونس میں سے تلافی کرسکتی ہے، لیکن کوئی مبہم نقصان یا متوقّع (expected) نفع نہ ہونے کے بدلے کوئی کٹوتی کرنا شرعاً درست نہیں۔
کمپنی کو اگر یہ خدشہ ہو کہ ملازم کے پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے کمپنی کے کاموں میں نقصان یا خلل واقع ہوسکتا ہے، تو ایسی صورت میں کمپنی صوابدیدی بونس اور الاؤنس (allowance) کوسال مکمل کرنے کے ساتھ مشروط ہوسکتی ہے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا اؤتمن خان، وإذا وعد أخلف). (صحىح البخاري،رقم الحديث:2536)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: الصُّلْحُ ‌جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ زَادَ أَحْمَدُ، إلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا. وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ. (سنن ابو داود، رقم الحديث:3584)                                                       

والأجير ‌الخاص ‌من ‌يستحق ‌الأجر ‌بتسليم ‌نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر. )الفتاوى الهنديه، كتاب الاجارة، ج:4،ص:500)


فتویٰ نمبر : 4032/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں