بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مہرکاحکم اوربیوی کو دیے ہوئے مال میں رجوع کرنا
سوال
رفاقت ولد لیاقت خان سکنہ شمدھڑہ کا نکاح ڈھائی سال پہلے (14/9/2022) کو ماہ نور دختر کریم زمان سکنہ کٹھائی کیساتھ ہوا تھا۔ رخصتی کے بعد دونوں کی ایک بچی بھی پیدا ہوئی۔ تاہم رخصتی کے بعد میاں بیوی کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، لڑکی نے پانچ چھ مرتبہ میکے جانے کے بعد واپس آنے سے انکار کیا اور پھر راضی ہوجاتی۔ اور شوہرکے گھر آجاتی۔ اب جرگہ والوں نے دونوں کے درمیان جدائی اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ نکاح کے وقت مہرساڑھے پانچ لاکھ (550000) روپےمقررہوئے تھے۔ نکاح نامہ کی شق نمبر13میں مہر کے خانہ میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے درج ہیں۔ جبکہ نکاح رجسٹرار نے خانہ نمبر15 میں بے محل یہ الفاظ درج کیے ہیں، کہ"مہرکی رقم پانچ تولہ سونا بذمہ شوہر واجب الاداء ہے"۔ اب رفاقت کہتا ہے کہ ساڑھے پانچ لاکھ مہر دینے کے لیے میں تیار ہوں، البتہ پانچ تولہ سونا میں نےجو بیوی کو دیا ہے، وہ ہمارے عرف میں عاریت شمار ہوتی ہے، اور بعض اوقات ہبہ شمار ہوتا ہے، میں بہر دو صورت میں سونا واپس مانگ رہا ہوں۔ اگر سونا بطورِ عاریت دینا شمار ہوتا ہے، پھر تو کوئی سوال نہیں اٹھتا، اور اگر بطورِ ہبہ شمار ہو تو میں ہبہ سے رجوع کرتا ہوں۔ مہربانی فرما کر شریعت کی رو سے بتائیں کہ رفاقت کی یہ بات درست ہے یا نہیں؟
نیز یہ بھی بتائیں کہ: 1۔ پانچ تولہ سونا مہر شمار ہوگا یا نہیں؟ 2۔اگرمہر شمار نہ ہو توشوہر سونا واپس لے سکتا ہےیا نہیں؟
جواب
شریعت کی اصطلاح میں مہر وہ مال ہے جو عقد نکاح کےوقت شوہر پربیوی سے نفع اٹھانے کے عوض لازم ہوجائے، چاہےزوجین کی باہمی رضامندی سے ہوجسے" مہرمسمی" کا نام دیا جاتاہے یا نفس عقدکی وجہ سے ہوجسے مہر مثل" کانام دیا جاتاہے، نیز مہر مسمی (جس پرعقد نکاح منعقد ہوا ہے) دخول، خلوت صحیحہ یازوجین میں سےکسی ایک کی موت کی صورت میں متعین ہوجاتاہے لہذا ان تین صورتوں میں اب شوہر کے ذمے مہر مسمی لازم ہوجاتاہے۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ ہبہ بغیر کسی عوض کے کسی کو کسی چیز کے مالک بنادینے کانام ہے، جو ایک مستحسن اورموجب اجرعمل ہے، لیکن واہب کےلیے اپنے موہوب مال میں رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے، البتہ اگرمیاں بیوی میں سے ایک دوسرے کو کوئی چیز ہبہ کردے تو دوسرے کےلیے رجوع کاحق باقی نہیں رہتا۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگرشوہر نےعقد نکاح کےوقت ساڑھے پانچ لاکھ روپے مہر کے طورہر مقرر کیےتھے، تو شوہر پرعورت کویہی مہر یعنی ساڑھے پانچ لاکھ(550000) روپے دیناواجب ہے، جہاں تک نکاح نامہ میں لکھے گئے پانچ تولہ سونے کا تعلق ہے، تو اگر یہ بھی بطور مہر مقرر ہوا تھا اوربیوی اس کو ثابت کرسکے، توشوہر طلاق کی صورت میں اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا، البتہ اگرمہر پر خلع ہوجائے تو پھر خلع کے عوض کے طور پر واپس لے سکتا ہے اوراگر یہ سونا بطور مہر مقرر نہیں ہوا تھا، توپھر عرف کااعتبار ہوگا اگر عرف میں یہ عاریت شمارہوتا ہو تو شوہر واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے، اوراگر عرف میں یہ ہبہ ہو توپھر شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔
" ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها " لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه " وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن} [البقرة: 237] الآية. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب النکاح، باب المهر، ج:1، ص:199)
قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها"..."وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر"؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة، وإنما ينظر إلى هذا المقصود وقت العقد، حتى لو تزوجها بعدما وهب لها فله الرجوع، ولو أبانها بعدما وهب فلا رجوع. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، ج:3، ص:226)
ولو كان في خط المهر دنانير والعقد بالدراهم تجب الدراهم ولا تجب الدنانير بالخط قال - رضي الله تعالى عنه -، تأويله بينه وبين الله تعالى أما القاضي فيجبره على الدنانير إلا إذا علم أن العقد بالدراهم، كذا في التتارخانية.(الفتاوى الهندية، کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني عشر في اختلاف الزوجين في المهر، ج:1، ص:322)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں