بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بیوی کا مہر اپنے شوہر کو واپس دینے کے بعد سسرال والوں کا دوبارہ مہر کا مطالبہ
سوال
سن2018 میں ہمارے بڑے بھائی کا نکاح ہوا، اس سے پہلےمنگنی کے وقت مہر کے طور پر دس تولہ سونا مقرر کیا گیا تھا۔ جوبعد میں شادی کے وقت ہمارے والد محترم(مرحوم ) نے اپنی بہو(یعنی ہماری بھابھی) کو مہر کے طور پر دے دیا۔ کچھ عرصےبعد بھابھی نے وہ سو نااپنے شوہر(میرے بھائی)کو واپس دے دیا، بھائی نے وہ سونا فروخت کرکے اس کی رقم والد محترم کو دے دی، جنہوں نےوہ رقم گھر کے کچھ قرضے اور دیگر ضروریات میں استعمال کی۔ یہ سب کچھ اس وقت باہمی رضامندی سے ہوا، یعنی نہ والد صاحب نے اس بات پر زور دیا، نہ ہی بھابھی نے اس وقت کوئی اعتراض کیا۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ والد محترم کا انتقال ہوچکا ہے اور سسرال والے اب یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ جو مہر کاسونا بھابھی نے دیا تھا، اب وہ دوبارہ اسے دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ: 1۔ کیا وہ سونا دوبارہ دینا لازم ہے؟ 2۔ اگر دینا لازم ہےتو یہ ذمہ داری میرے بھائی کی انفرادی ہے یا ہم سب مشترکہ طور پر سونا خریدیں گے؟ اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے مہر عورت کا ازدواجی حق ہےجو کہ نکاح کرنے پر شوہر کے ذمہ واجب ہوجاتا ہے، اگر نکاح کے دوران شوہر کی بجائے اس کا ولی(مثلاً:باپ اپنی بہو کو) مہرا دا کرے تو اس صورت میں مہر کی ادائیگی ہو جاتی ہے، اور شوہر کی طرف سے ادائیگی کا حکم ساقط ہوجاتا ہے۔ نیز اگر بیوی اپنی رضامندی سے مہر کا کچھ حصہ یا مکمل مہر شوہر کو دے، تواس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں: یا تو بطورِ ہبہ دیا ہوگا، اور یا بطورِ قرض دیا ہوگا، اگربیوی نے مہر بطورِ ہبہ شوہرکودیا ہو، تو اس صورت میں شرعاً بیوی کو دوبارہ اس کے مطالبہ کا حق نہ ہوگا۔ اور اگر بیوی نے بطورِ قرض مہر دیا ہو، توپھر وہ اپنے قرض کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی سائل کے والد نے اپنی بہو کو دس تولہ سونابطورِ مہر دیا تھا، اور بعد میں اس نے اپنی رضامندی سے وہ سونا اپنے شوہر کو واپس کردیا، تواگر یہ بطورِ ہبہ دیاتھا، تو پھر بیوی کو دوبارہ اس کے مطالبہ کا حق نہیں۔ لیکن اگر یہ بطورِ قرض دیاتھا، تو پھر بیوی کواس کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔ اور ایسی صورت میں مہر کی ادائیگی شوہر کی انفرادی ذمہ داری ہوگی، دیگر ورثا پراس کی ادائیگی لازم نہیں۔
وأما بيان ما يسقط به كل المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة:....ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عينا كان أو دينا وبعده إذا كان عينا. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، باب المهر، ج:2، ص:295)
الساقط لا يعود. يعني إذا أسقط شخص حقا من الحقوق التي يجوز له إسقاطها يسقط ذلك الحق وبعد إسقاطه لا يعود. أما الحق الذي لا يقبل الإسقاط بإسقاط صاحبه له. مثال: لو كان لشخص على آخر دين فأسقطه عن المدين، ثم بدا له رأي فندم على إسقاطه الدين عن ذلك الرجل، فلأنه أسقط الدين، وهو من الحقوق التي يحق له أن يسقطها، فلا يجوز له أن يرجع إلى المدين ويطالبه بالدين؛ لأن ذمته برئت من الدين بإسقاط الدائن حقه فيه. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، رقم المادة:51، ج:1، ص:54)
قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها"..."وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر"؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة، وإنما ينظر إلى هذا المقصود وقت العقد، حتى لو تزوجها بعدما وهب لها فله الرجوع، ولو أبانها بعدما وهب فلا رجوع. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، ج:3، ص:226)
(وإذا ضمن الولي المهر صح ضمانه) لأنه من أهل الالتزام وقد أضافه إلى ما يقبله فيصح " ثم المرأة بالخيار في مطالبتها زوجها أو وليها " اعتبارا بسائر الكفالات. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب النكاح، باب المهر، ج:2، ص:205)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں