بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

فری لانسسنگ ویب سائٹس پرفحش مواد بنانا اوراس پراجرت لینا


سوال

فری لانسنگ ویب سائٹس وہ آن لائن پلیٹ فارم ہوتے ہیں جہاں لوگ (یعنی فری لانسرز) اپنی مہارتیں (skills) بیچتے ہیں اور دوسرے لوگ (یعنی کلائنٹس) ان سے کام کرواتے ہیں۔ کلائنٹس (Clients) سے مراد وہ افراد یا کمپنیاں ہیں جوان ویب سائٹس پرآکر فری لانسرز سے کوئی کام کرواتے ہیں اوراس کے بدلے انہیں پیسے دیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایک نوجوان فری لانسنگ ویب سائٹس پر کام کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ ایسے کلائنٹس کے لیے بھی کام کرتا ہے جواس جیسے کام  لیتے ہیں،مثلاً: فحش مواد بنانا، کسی ہیکنگ یا فراڈ میں مدد دینا، جھوٹے ریویوز لکھنا، غیر اسلامی ایپس یا قمار بازی سے متعلق کام کرنا۔ کیا اس کی آمدنی مکمل طورپرمشکوک یا حرام شمار ہوگی یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے۔ فری لانسنگ بھی عقد اجارہ ہی کی ایک صورت ہے جس  میں فری لانسر کی حیثیت اجیر مشترک  کی ہے جبکہ  گاہک کی حیثیت  مستاجر کی ہوتی ہے اوران دونوں کے مابین عقد اجارہ طے پاتاہے چنانچہ ان کے مابین ہونےوالےعقد میں اجارہ کی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں فری لانسنگ کے ذریعہ جو خدمات فراہم کی جاتی ہیں اگر وہ غیر شرعی کاموں پرمشتمل ہو جیسے :(فحش مواد بنانا، کسی ہیکنگ یا فراڈ میں مدد دینا، جھوٹے ریویوز لکھنا، غیر اسلامی ایپس یا قمار بازی سے متعلق کام  کرنا) تو ان کے عوض رقم وصول کرنا جائزنہیں،البتہ اس کے علاوہ دیگر جائز کاموں کے عوض حاصل کردہ اجرت حلال ہے۔

 

(الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت)(أو موقتا بلا تخصيص)(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه)(ردالمحتار على الدر المختار، باب ضمان الأجير،ج6،ص64)

ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،ج4،ص411)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.(الهداية،كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،ج3،ص306)


فتویٰ نمبر : 3844/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں