بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جس كے پاس دو تولہ سونا ہو اس كو زكاۃ دینا


سوال

ایک خاتون کے پاس دو تولہ سونا ہے نقدی بالکل نہیں ہے کیا اسے زکا ۃدی جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہےکہ شریعت میں فقیر وہ شخص ہوکہلاتا ہے جس کے پاس نصاب کے برابر مال موجود نہ ہو۔ موجواورنصاب  ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نقدرقم یاضرورت سے زائدمال ہے۔ اگر کسی کے پاس صرف دو تولہ سونا ہواوراس کے علاوہ اس کے پاس چاندی ،نقد رقم ،سامان تجارت اور ضرورت سے زائد مال نہ ہو تو وہ صاحب نصاب نہ ہوگا، لہذا اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جس عورت کے پاس دو تولہ سونا کے علاوہ کوئی اور چیز نہ ہو تو اس کو زکاۃ دی جاسکتی ہے ۔

 

والأولى أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجة.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكاة، باب مصرف الزکاۃ، ج:2، ص:258)


فتویٰ نمبر : 10593/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں