بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
’’الدنيا مزرعۃ الآخرۃ‘‘ کی اِسنادی حیثیت
سوال
آج کل خطبا حضرات جمعہ کےبیانات میں آخرت کی تیاری کےحوالےسےیہ حدیث ذکرفرماتےہیں: الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ،جو میں نےبعض کتب میں دیکھابھی ہےکیایہ حدیث مستند کتب حدیث میں موجود بھی ہےیانہیں؟
جواب
واضح رہے کہ "الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ" (دنیا آخرت کی کھیتی ہے) کتبِ وعظ میں حدیث کےعنوان سےموجودہے، مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی صحیح سند کے ساتھ مروی نہیں ،علامہ سخاویؒ، ملا علی قاریؒ، اور دیگر نے واضح کیا ہے کہ یہ حدیث مرفوعاً ثابت نہیں، بلکہ بعض کتب میں بلا سند ذکر کی گئی ہے، جو کہ حدیث کے طور پر اس کے قابلِ قبول ہونے میں مانع ہے۔
البتہ اس عبارت کا مفہوم درست اور قرآن و سنت کے موافق ہے۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾(الشورى:20)یعنی: "جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے۔"
لہٰذا اس عبارت کو بطورِ حکمت و نصیحت کے بیان کیا جا سکتا ہے، مگر بطورِ حدیثِ نبوی بیان کرنا درست نہیں۔
حَدِيث:الدّنيا مزرعة الآخرة، لم أقف عليه مع إيراد الغزالي له في الإحياء، وفي الفردوس بلا سند عن ابن عمر مرفوعا: الدنيا قنطرة الآخرة فاعبروها، ولا تعمروها، وفي الضعفاء للعقيلي ومكارم الأخلاق لابن لال من حديث طارق بن أشيم رفعه: نعمت الدار الدنيا لمن تزود منها لآخرته، الحديث. وهو عند الحاكم في مستدركه وصححه، لكن تعقبه الذهبي بأنه منكر قال: وعبد الجبار يعني راويه لا يعرف.(المقاصد الحسنة، الباب الأول، حرف الدال، ص: 351)
حديث الدنيا مزرعة الآخرة قال السخاوي لم أقف عليه) .المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، حرف الدال المہملۃ،ص:101(
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں