بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

فجر کی سنتیں مسجدمیں صفوں کے دائیں بائیں ادا کرنا


سوال

میں نے کئی مرتبہ فجر کی سنتیں جماعت کے دائیں یا بائیں اس حالت میں ادا کی ہیں کہ میں امام کی آواز سن رہا تھا۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کرنا درست نہیں ہے، تو جو سنتیں میں نے اس حالت میں ادا کیں، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا مجھ پر ان کا اعادہ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

احادیث میں فجر کی سنتوں کے بارے میں باقی سنتوں کی نسبت زیادہ تاکید  آئی  ہے۔ اس لیے اگر جماعت فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور آدمی نماز کے آخری قعدے کو پا سکتا ہو، تو اس کو فجر کی سنتیں پڑھنی چاہییں۔ البتہ اگر جماعت چھوٹنے کا اندیشہ ہو تو پھر جماعت میں شامل ہونا چاہیے۔ فجر کی سنتوں میں افضل یہ ہے کہ آدمی  گھر میں پڑھ کر مسجد جائے، اور اگر مسجد میں پڑھنی ہوں تو مسجد کے صحن یا کسی گوشے میں کھڑا ہو، جہاں جماعت کی صفیں متاثر نہ ہوں۔ اگر کسی نے مسجد کے اندر یا صف کے دائیں بائیں سنتیں پڑھ لیں تو سنت تو ادا ہو جائے گی، لیکن یہ عمل مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل نے لا علمی میں  جس طرح سنتیں ادا کی ہیں، یہ عمل مکروہ ہے، اس لیے آئندہ اس طرح کرنے سے گریز کرے۔ البتہ اس طریقے سے جو سنتیں اس نے ادا کی ہیں، وہ ادا ہو چکی ہیں، ان کی قضا لازم نہیں۔

 

(قوله آكدها سنة الفجر) لما في الصحيحين عن عائشة رضي الله عنها «لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم على شيء من النوافل أشد تعاهدا منه على ركعتي الفجر» وفي مسلم «ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها» وفي أبي داود «لا تدعوا ركعتي الفجر ولو طردتكم الخيل».(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة ،باب الوتر والنوافل ،ج: 2، ص:14)

والثالثة أن يأتي بهما في بيته وإلا فعلى باب المسجد وإلا ففي المسجد الشتوي إن كان الإمام في الصيفي أو عكسه إن كان يرجو إدراكه وإن كان المسجد واحدا يأتي بهما في ناحية من المسجد ولا يصليهما مخالطا للصف مخالفا للجماعة فإن فعل ذلك يكره أشد الكراهة ولا يطول القراءة فيهما ولو تذكر في الفجر أنه لم يصل ركعتي الفجر لم يقطع اهـ .( البحر الرائق شرح كنزالدقائق، كتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ،ج: 2، ص: 52)


فتویٰ نمبر : 10595/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں