بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بازاروں میں موجود مساجد کے بیت الخلاءاور غسل خانوں کا استعمال


سوال

بازاروں میں موجود مسجدوں کے بیت الخلا اور غسل خانوں کا نماز کے علاوہ اوقات میں  استعمال کرنا کیسا ہے جبکہ اس کی صفائی اور دیگر اخراجات مسجد کے فنڈ سے دیےجاتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جہاں  مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانے مسجد کے ساتھ متصل بنائے گئے ہوں تو جس طرح مسجد میں سب کےلیے اذن عام ہوتی ہے کہ ہر کوئی اس میں  نماز پڑھ سکتا ہے اس طرح مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانے بھی مسجد آنے والا ہر شخص  استعمال کر سکتا ہے تاہم جہاں  انتظامیہ یہ سمجھے  کہ عام لوگوں کے استعمال کی وجہ سے مسجد کے بیت الخلاء  اورغسل خانوں کی  صفائی متاثر ہوتی ہے تو وہ عام لوگوں کو مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانوں کے استعمال سے منع بھی کر ے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانےمسجد سے متصل بنائے گئے ہوں اور انتظامیہ کی طرف سے ان کے استعمال پر کوئی پابندی نہ ہو تو اس صورت میں  اوقات نماز کے علاوہ  بھی ان کو استعمال کرسکتے  ہیں ۔

 

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366)

وإذا وقف للوضوء لا يجوز الشرب منه وكل ما أعد للشرب حتى الحياض لا يجوز منها التوضؤ، كذا في خزانة المفتين.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر،ج:2،ص:464)


فتویٰ نمبر : 6337/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں