بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جہیز کی شرعی حیثیت


سوال

ہمارے ہاں کچھ دوست ہیں جو کہتے ہیں کہ جہیز کا سرے سے کوئی ثبوت ہی نہیں۔کیا شریعت میں جہیز ہے یا نہیں؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں!

جواب

شادی میں والد کی طرف سے بیٹی کو کچھ ضروری ساز و سامان دینا جہیز کہلاتا ہے۔ یہ رواج فی نفسہ شریعت کے خلاف نہیں، کیونکہ نبی کریمﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کو شادی کے وقت کچھ ضروری چیزیں مرحمت فرمائی تھیں، لیکن دین اسلام افراط و تفریط سے پاک ایک فطری دین ہے، اس لیے بیٹی کو جہیز دینے میں استطاعت سے بڑھ کر اس قدر افراط سے کام لینا کہ اس کے لیے قرضے لیے جائیں یا اس کی وجہ سے جوان بیٹیوں کی شادی میں نامناسب تاخیر ہو یا اس کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنایا جائے، تو یہ قطعا ٹھیک نہیں، اس سے احتراز ضروری ہے۔

 

عن علي، رضي الله عنه قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر. (سنن النسائي، کتاب النکاح، جھاز الرجل ابنتہ، ج: 2، ص: 77)

"(منها): ما ترجم له المصنّف -رحمه اللَّه تعالى-، وهو مشروعيّة تجهيز الرجل بنته بما تحتاج إليه، مما تيسر له. (ومنها): ما كان عليه صلى اللَّه عليه وسلم أيضًا، من العناية ببناته، والقيام بتربيتهنّ، وتزويجهنّ، وتجهيزهنّ لأزواجهنّ بما جرت به العادة، حتى تكون الألفة والمحبة بين الزوجين دائمة؛ لأن الرجل إذا لم يكن للزوجة جهاز ربما يتبرّم، ويتثاقل منها، ولا يحسن عشرتها، ولا يريد أن تطول صحبتها له. (ومنها): ما كان عليه النبيّ صلى اللَّه عليه وسلم من الزهد في الدنيا، والاكتفاء بالقليل منها، ولو شاء لكانت الجبال له فضة وذهبًا. واللَّه تعالى أعلم بالصواب، وإليه المرجع والمآب". (ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، ج: 28، ص: 154) 

وعن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن أعظم النكاح بركةً أيسره مؤنةً». (رواه البيهقي في شعب الإيمان، ج:2، ص:268 )


فتویٰ نمبر : 6338/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں