بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنا


سوال

بچے کے عقیقہ میں ساتویں یا چودھویں دن کی رعایت تو مستحب ہے۔ اگر کوئی ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرلے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

مستحب یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اگر اس دن نہ ہوسکے تو پھر چودھویں دن کیا جائے اور اگر اس دن بھی رہ جائے تو پھر اکیسویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح اکیسویں دن کے بعد بھی ساتویں دن کی رعایت رکھنا بہتر ہے۔ البتہ ساتویں دن کی رعایت رکھے بغیراگر اس سے پہلے یا بعد میں عقیقہ کیا جائے تو بھی جائز ہے۔

لہٰذا ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کی صورت میں عقیقہ کی سنت ادا ہوجائے گی، صرف مستحب وقت میں عقیقہ کرنے کا ثواب فوت ہوگا۔

 

عن ابن سيرين قال: كان لا يرى بأسا أن يعق قبل السابع أو بعده، وكان يقول: اجعل (لحم) العقيقة كيف شئت۔ (المصنف لإبن أبي شيبة، كتاب العقيقة، في أي يوم تذبح العقيقة، ج:13، ص: 367)

إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر وإلا ففي الحادي والعشرين۔۔۔ ثم هكذا في الأسابيع۔ (إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، ج: 17، ص: 131)

ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت.  (فيض الباري شرح البخاري، ج: 7، ص: 81)


فتویٰ نمبر : 10592/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں