بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نذر مان کر اس کی قیمت دینا


سوال

اگر کسی نے نذر مانی کہ میرا یہ کام ہوجائے تو میں اللہ کے لیے دو دیگ پکاؤں گا، پھر اس کا کام ہوگیا، اس دوران اس نے کسی محتاج کو دیکھا کہ اس کو ضرورت ہے، اس نے اس نذر کی نیت سے دیگ کے پیسے اس کو دے دیے، کیا یہ نذر پوری ہوگئی یا نہیں؟

جواب

صدقات واجبہ میں غربا اور مساکین کی ضرورت کو سامنے رکھ کر ان کی مدد کرنی چاہیے، اس لیے اگر کوئی شخص منذور چیز کی بجائے اس کی قیمت غربا وفقرا میں تقسیم کرنا چاہے تو اس میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں۔ قیمت ادا کرنے سے بھی اس کی نذر پوری ہوجاتی ہے۔بشرطیکہ نقدر رقم اس منذور چیز کے برابر ہو، کم رقم دینے کی صورت میں نذر پوری نہ ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں دو دیگ کی نذر لازم ہونے کے بعد اس کی جگہ قیمت کسی مستحق شخص کو دے دینے سے نذر پوری ہوگئی ہے۔

 

(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه. (رد المحتار علی الدر المختار، ج: 3، ص: 741)


فتویٰ نمبر : 10592/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں