بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طالبات کا کسی تقریب میں حدیث کی عبارت پڑھنا


سوال

میں ایک مدرسے میں ہوں جس میں درس نظامی پڑھایا جاتا ہے، سالانہ ختم بخاری کی تقریب میں مردوں اورعورتوں کا الگ الگ بیٹھنے کا انتظام ہوتا ہے۔ لیکن اس تقریب میں طالبات کو بذریعہ اسپیکراحادیث کی عبارت پڑھنے کا موقع دیا جاتاہےاوران طالبات کی آواز مسجد میں موجود لوگ بھی سنتے ہیں۔ توکیا اس طرح جوان لڑکیوں کی آواز مردوں کو سنوانا درست ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ عورت کی آواز راجح قول کی مطابق عورت نہیں لیکن جہاں فتنہ کا اندیشہ ہوتو وہاں بغیرضرورت کسی کوآوازسنانا جائزنہیں،اور ضرورت کے وقت بھی آواز میں نرمی ولطافت کے بغیر صاف اور سیدھی بات کرنی چاہیے،جس سے مخاطب کے دل میں کوئی میلان وغیرہ پیدانہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق تقریب میں مردوں اورعورتوں کے لیے الگ الگ انتظام کے باوجود بذریعہ اسپیکرطالبات کا احادیث کی عبارت پڑھنا اور مردوں کےعام مجمع کواس کی آوازسنانا چونکہ باعث فتنہ ہوسکتا ہے، اس لئےاس سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة (قوله: على الراجح) عبارة البحرعن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر: وهوالذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: "التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء"، فلايحسن أن يسمعها الرجل. ا هـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهرًا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر.(ردالمحتار علی الدرالمختار،‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب شروط الصلاة،مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:406)


فتویٰ نمبر : 6329/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں