بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

وقف تام ہو نے کے بعد اس سے رجوع کر نا


سوال

اگر میراث کی تقسیم کے بعد تین بھائیوں نے اپنی اپنی ملکیتی زمین کا ایک ایک حصہ قبرستان کے لیے مستقل وقف کر دیا ہو،اور وہاں اب تک صرف ایک ہی قبر بنی ہو ، لیکن کچھ عرصہ بعد وہ ارادہ کریں کہ چونکہ زمین کا رقبہ بہت زیادہ ہے، اس لیے وہ وقف کو منسوخ کر کے زمین کو آپس میں تقسیم کر لیں اور اس پر ذاتی طور پر مکانات تعمیر کریں، تو کیا شرعاً وقف کو اس طرح منسوخ کرنا اور ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 شریعت مطہرہ کی رو سے قبرستان کے لیے وقف شدہ زمین کا وقف اس وقت تام ہوتا ہے جب وقف کے بعد واقف کی اجازت سے اس میں کم از کم ایک میت  کی قبر بن جائے ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرمیراث کی تقسیم کے بعد تین بھائیوں نے اپنی اپنی ملکیتی زمین کا ایک ایک حصہ قبرستان کے لیے مستقل وقف کر دیا ہو اور وہاں اب تک صرف ایک  میت کی قبر بنی ہو،تو جس بھائی کے حصے میں مذکورہ قبر بنی ہواس کی زمین میں وقف تام ہو نے کی وجہ سے  شرعا اس کویہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ موقوفہ قبرستان سے رجوع کر کے اپنے ذاتی استعمال میں لائے،البتہ اگر باقی دو بھائیوں کے حصے میں اگر اب تک کوئی قبر نہ بنی ہو،تو وقف تام نہ ہو نے کی وجہ سے شرعا ان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے حصے کے موقوفہ قبرستان سے رجوع کر کے اپنے ذاتی استعمال میں لائیں ۔

 

لا ‌يجوز ‌الرجوع ‌عن ‌الوقف.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الوقف، مطلب في إقالة المتولي عقد الإجارة، ج: 4، ص: 456)

والحاصل أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بإحدي طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنى في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما أشبه ذلك۔( الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185(

 الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوقف ،ج:5،ص:328 )

 


فتویٰ نمبر : 6330/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں