بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عیسائی کی میراث میں نومسلم کا حصہ


سوال

زید اپنے والد کےانتقال کے وقت عیسائی تھا اب مسلمان ہوچکا ہے، جبکہ زید کا والدعیسائی مرچکا ہے، کیا زید اپنے باپ کے ترکہ میں سے میراث کا مستحق ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بیٹا اپنے باپ کی میراث سے تب محروم ہوگا جب بیٹا باپ کا قاتل ہو، یا کسی کا غلام ہو، یا باپ اوربیٹے میں دین کا اختلاف ہو، اوریا بیٹے اورباپ میں اختلاف دارین ہویعنی دارالاسلام اوردارالحرب کا اختلاف ہو، ان موانع کےعلاوہ بیٹا والد کی میراث میں سے اپنے مقررہ حصہ کا مستحق ہوتا ہے۔ نیزکفاربھی ایک دوسرے سے ان اسباب کے ذریعے میراث لے سکتے ہیں جن کے ذریعے مسلمان لیتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں باپ کےمرنے کے وقت اگرباپ اوربیٹا دونوں عیسائی تھے بعد میں بیٹا مسلمان ہواہوتوبیٹا اپنے باپ کے ترکہ میں اپنے مقررہ حصے کا مستحق ہوگا۔

 

(ويمنع الإرث الرق) وافرا كان أو ناقصا؛۔۔۔(والقتل كما مر) تفصيله في الجنايات (واختلاف الملتين) فلا يرث الكافرمن المسلم إجماعا، ولا المسلم من الكافر۔۔۔(واختلاف الدارين حقيقة) كالحربي والذمي (أوحكما) كالمستأمن والذمي أوالحربيين من دارين مختلفين كما مر۔ (مجمع الانہر،كتاب الفرائض، ج:2،ص:748)

الكفار يتوارثون فيما بينهم بالأسباب التي يتوارث بها أهل الإسلام فيما بينهم من النسب والسبب۔(الفتاوی العالمگيرية،كتاب الفرائض،الباب السادس في ميراث أهل الكفر،ج:6، ص:453)


فتویٰ نمبر : 3748/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں