بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تقسیم سے پہلے مشترکہ زمین سے اپنےحصےکو مسجد کے لیے وقف کرنا


سوال

ہم تین بہن بھائی  ہیں ،ہماری ایک مشترکہ زمین ہے، میں  اپنے حصےکو تقسیم سے پہلے  مسجد کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں  تو کیا میرا یہ وقف کرنا درست ہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ وقف کے لیے ضروری ہے کہ  زمین  متعین  ہو اور اس میں کسی غیر کی ملکیت کا شائبہ نہ  ہو ، تقسیم اور تحدید (حدبندی) سے پہلے مشترکہ زمین میں چونکہ واقف کا حصہ متعین نہیں ہوتا ،اس لیے اس کو وقف کرنے سے وقف درست نہیں ہوتا ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا اپنےحصہ زمین کو  تقسیم سے قبل مسجد کے لیے وقف کرنا درست نہیں جب تک اس حصہ کو تقسیم کرکےالگ نہ کرے۔

 

قوله (ووقف المشاع جائز عند أبي يوسف) يعني فيما يحتمل القسمة (وقال محمد لا يجوز) أما فيما لم يحتملها فيجوز مع الشيوع أيضا عند محمد إلا في المسجد والمقبرة فإنه لا يتم مع الشيوع فيما لا يحتمل القسمة أيضا عند أبي يوسف؛ لأن بقاء الشركة يمنع الخلوص لله تعالى ولأن المهايأة في ذلك في غاية القبح بأن يقبر فيها الموتى سنة وتزرع سنة ويصلى في المسجد في وقت ويتخذ إصطبلا في وقت بخلاف ما عدا المقبرة والمسجد لإمكان الاستغلال وقسمة الغلة وقوله وقال محمد لا يجوز يعني فيما يحتمل القسمة؛ لأن أصل القبض عنده شرط ولأنه نوع تبرع فلا يصح في مشاع يحتمل القسمة كالهبة.(الجوهرة النيرة على مختصر القدوري،كتاب الوقف،ج:١،ص:٣٣٤)


فتویٰ نمبر : 6328/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں