بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نا بالغ کی زمین میں عُشر کا حکم


سوال

اگر مالک زمین نا بالغ ہو تو اس کی زمین  کی پیدا وار میں سے عُشر ادا کیا جا ئے گا یا نہیں؟

جواب

وجوب عُشر کے لیے فقہاء کرام نے دو شرائط ذکر فرمائی ہیں ، ایک زمین کا عشری ہونا دوسرا یہ کہ مالک زمین مسلمان ہو۔ لہذا اگر زمین عُشری ہے اور مالک اس کا مسلمان ہے خواہ وہ نابا لغ بھی ہو تواس کی آمدنی میں سے عُشر ادا کرنا ضروری ہوگا ۔

لہذاصورت ِمسئولہ کے مطابق اگرمالک زمین نا بالغ ہو تو اس کی زمین کی پیداوار میں سے بھی  عُشر ادا کیا جائے گا ۔

 

وشرط وجوبه نوعان الأول شرط الأهلية، وهو الإسلام........ وأما العقل والبلوغ فليسا من شرائط الوجوب حتى يجب العشر في أرض الصبي والمجنون........... والنوع الثاني شرط المحلية، وهو أن تكون عشرية.(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار،ج:1،ص:185)


فتویٰ نمبر : 10591/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں