بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر موجودہ چیز کا وعدہ بیع کرنا


سوال

میں نٹ اور بولٹ(nuts and bolts etc) کا کاروبار شروع کر رہا ہوں جہاں ہزاروں مصنوعات ہیں۔ تمام مصنوعات کو قبضے میں رکھنا ممکن نہیں ہے. میرے پاس سیکڑوں مصنوعات ہوسکتی ہیں. اب سوال یہ ہے کہ گاہک کچھ مصنوعات کی تلاش میں ہے جو میرے ہاتھ میں نہیں ہیں. میں دوسرے کاروباروں سے قیمت حاصل کرتا ہوں جو مصنوعات کے مالک ہیں اور گاہک کو اضافی منافع کے ساتھ مصنوعات کی قیمت بتاتے ہیں، گاہک اس بات سے بے خبر ہے کہ میں اس کی ضرورت کی مصنوعات کا مالک نہیں ہوں. لہذا، میں گاہک کو سیلز آرڈر حاصل کرتا ہوں، ایک قسم کا معاہدہ کہ وہ مصنوعات خریدنے جا رہا ہے لیکن موقع پر ادائیگی نہیں کرتا ہے یا وہ ادائیگی کرتا ہے. اس کے بعد میں مصنوعات کا انتظام کرتا ہوں ، ملکیت لیتا ہوں اور گاہک کو فراہم کرتا ہوں۔ گاہک اس کے بعد ادائیگی کرتا ہے یا گاہک پہلے ہی اس کے لئے ادائیگی کر چکا ہے. بعض اوقات گاہک کو معلوم ہوتا ہے کہ میرے پاس مصنوعات نہیں ہے اور وہ اس کا انتظام کرے گا اور اسے اس قیمت پر فروخت کرے گا جو میں نے بتایا تھا.یہ ایک دکان کا کاروبار ہے نہ کہ ایمیزون کی طرح آن لائن کاروبار کیا یہ حلال ہے یا اس طرح کا کاروبار کرنے کا حلال طریقہ کیا ہے؟

جواب

  شرعی نقطہ نظر سے خریدوفروخت کے معاملے میں اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ہورہی ہو وہ عاقدین کےمابین معاملہ طے پاتے وقت بائع(فروخت کنندہ)کی ملکیت میں ہو ، نیز وہ چیز معلوم و متعین ہو اور فروخت کنندہ کے قبضہ میں بھی ہو ، چنانچہ اگر مبیع (جو چیز فروخت کی جا رہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو، بلکہ وہ چیز کسی اور دکان سے خرید کر مشتری (خریدار) کو دی جائے تو یہ صورت بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، البتہ اگر اس چیز کو ملکیت و قبضہ میں لانے کے بعد فروخت کیا جائے تو یہ جائز ہوگا۔صورتِ مسئولہ میں فروخت کی جانے والی چیز  بوقتِ فروخت اگر   بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت میں نہیں ہوتی ،البتہ اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہےکہ گاہک سے آرڈر لیتے وقت حتمی معاملہ نہ کیا جائے، بلکہ فروختگی کا وعدہ کیا جائے، پھر وہی چیز مارکیٹ سے خرید کر خود یا وکیل کے ذریعے قبضہ میں لی جائے اورپھر کسٹمر کو بیچ دی جائے۔

 

عن حكيم بن حزام قال قلت : يا رسول اللّه الرّجل يطلب منّى البيع وليس عندى أفأبيعه له؟ فقال رسول اللّه صلى الله عليه وسلم:« لا تبِع ما ليس عندك(السنن الكبري للبيهقي ، كتاب البيوع، باب من قال لايجوز بيع الغائبة، ج:8 ص:95)

ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلّا السّلم خاصَة وهذا بيع ما ليس عنده ونهى رسول الله صلى اللَّهُ عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان ورخّص في السّلم(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي  صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض (منها)القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض.( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واماالذي يرجع الي المعقود عليه، ج:7،ص:35


فتویٰ نمبر : 3945/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں