بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

سیلزمین کو بنیادی ذمہ داری کے ساتھ دوسری ذمہ داری سونپنا


سوال

کمپنی والے سیلزمین کو ماہانہ معین تنخواہ دیتی ہے، سیلزمین کا بنیادی کام پراڈکٹ بیچنا ہوتا ہے اورسیلزمین  کہتے بھی اس ملازم کوجوسیل کرتا ہے لیکن  کمپنی کی طرف سے سیلزمین کو یہ ہدایت بھی ہوتاہےکہ آپ نے سیل کےساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کرنے ہیں مثلاً منیجمنٹ ،حسابات رکھنا وغیرہ،کیا شرعاً کمپنی والوں کا سیلزمین سے کام کے مقررہ وقت کے دوران  یہ اضافی کام لینا جائز ہے یا  نہیں؟

جواب

جاننا چاہیے کہ جس سیلزمین کے لیے ماہانہ تنخواہ مقرر ہو، تو وہ اجیر خاص کہلاتا ہے،اوراجیر خاص سے کام کے مقررہ وقت کے دوران اس کی وسعت اور منصب کا رعایت رکھتے ہوئے کام لینا شرعاً جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کمپنی والوں کا سیلزمین سے کام کے مقررہ وقت کے دوران ذمہ داری سے متعلق دوسرا کام جیسے منیجمنٹ ،حسابات کا کام لینا شرعاً جائزہے،لیکن اگر اس میں مقررہ وقت سے زیادہ وقت صرف ہوتاہوتو پھراس زائد وقت کے مطابق الگ اجرت دینا ضروری ہوگا۔

 

وأما في الأجير الخاص فلا يشترط ‌بيان ‌جنس ‌المعمول ‌فيه ونوعه وقدره وصفته، وإنما يشترط بيان المدة فقط. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:4،ص:184)

وأما في حق الأجير الخاص فلا يشترط ‌بيان ‌جنس ‌المعمول ‌فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط وبيان المدة في استئجار الظئر شرط الجواز بمنزلة استئجار العبد للخدمة. ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي( الفتاوى الهندية،ج: 4،ص:411)

والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) أي ‌الأجير ‌الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل سمي أجيرا خاصا وأجير وحد؛ لأنه يختص به الواحد وهو المستأجر وليس له أن يعمل لغيره.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،ج:5،ص:137)


فتویٰ نمبر : 3840/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں