بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
حدیث:الفقر فخري وبه افتخر کی حیثیت اور فقر کی فضلیت
سوال
آج کل کےحوالےسےبعض لوگ مالداری پرفقروفاقہ کی برتری اورفضیلت ثابت کرنےکےلیےیہ حدیث پیش فرماتےہیں: (الفقر فخري وبه افتخر)کیا ایسی کوئی حدیث ذخیرہ احادیث میں پائی جاتی ہےیانہیں،نیزیہ بتائیں کہ فقیر مالدارسےافضل ہے کہ نہیں؟
جواب
جاننا چاہیے کہ شریعت مطہرہ میں مالداری یا فقرمیں سے کوئی ایک بعینہ ممدوح یا مذموم نہیں بلکہ فضلیت اوراعزازکا مدارصرف تقوی پر ہے چنانچہ فقیرصرف فقر کی وجہ سے کسی مالدار شخص سے افضل نہیں بلکہ متقی اور پرہیزگار شخص چاہے فقیر ہو یا مالدارتواس کو فضیلت حا صل ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق کسی فقیر کو صرف اس کے فقر کے بسبب مالدار پر کوئی فضیلت نہیں بلکہ فضیلت کامدار تقوی پر ہے جہاں تک حدیث الفقر فخري وبه افتخر ہے تو اس روایت کو محدثین نے اس کی سند کی وجہ سے موضوع اورباطل قراردیا ہے البتہ اس میں فقر بمعنی عاجزی وانکساری اوراللہ تعالی کی طرف احتیاج ہوتو معنی یہ ہوگاکہ اللہ تعالی کی طرف احتیاج اوراس کے سامنے عاجزی باعث فخر ہے یہ معنی و مفہوم درست ہے گویا کہ الفاظ حدیث نہیں لیکن معنی اس کا درست ہے۔
قال اللہ تعالی:﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾(الحجرات:13)
فكشف الغطاء عن هذا هو ما ذكرناه في كتاب الصبر وهو أن ما لا يراد لعينه بل يراد لغيره فينبغي أن يضاف إلى مقصوده إذ به يظهر فضله والدنيا ليست محذورة لعينها ولكن لكونها عائقة عن الوصول إلى الله تعالى ولا الفقر مطلوبا لعينه لكن لأن فيه فقد العائق عن الله تعالى وعدم الشاغل عنه وكم من غني لم يشغله الغني عن الله عز وجل مثل سليمان عليه السلام وعثمان وعبد الرحمن بن عوف رضي الله تعالى عنهما وكم من فقير شغله الفقر وصرفه عن المقصد(احیاءعلوم الدین،کتاب الفقر والزهد ،ج:4،ص:202)
والعجز فخري) أي افتخر بإظهار العجز والافتقار في مرتبه العبودية إلى الاحتياج للقدرة والقوة الربوبية كما يشير إليه قوله تعالى والله الغني وأنتم الفقراء ولعل هذا هو وجه ما وقع في نسخة من لفظ الفقر بدل العجز وإن قال ابن تيمية إن حديث الفقر فخري كذب وقال العسقلاني إنه باطل فإن الحكم بوضعه إنما هو باعتبار ما وصل من سنده لا من حيث مبناه المطابق معناه لما ورد في كتاب الله ولا يبعد أن يكون هذا من علي كرم الله وجهه موقوفا بمضمون ما سمعه عنه صلى الله تعالى عليه وسلم في بعض أحوال متفرقة مرفوعا.(شرح الشفا،ج:1،ص:326)
ولذا ورد (الفقر فخرى وبه افتخر) وهذا صحيح بمعناه وان اختلف فى لفظه كما قال عليه السلام (اللهم أغنني بالافتقار إليك ولا تفقرنى بالاستغناء عنك)(روح البيان،ج:7،ص: 334)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں