بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
سودی کاروباراوراس میں ملازمت
سوال
اکثرنجی کمپنیاں اورادارے اپنے ملازمین کو سودی بینکوں سے قرض لینے کی سہولت دیتے ہیں، بعض اوقات سود کی شرح کم کروا کر "آسان قسطوں کا نظام" کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ بعض ادارے اپنی سرمایہ کاری سودی اسکیموں، فکسڈ ڈیپازٹس یا کنونشنل بینکنگ میں رکھتے ہیں اور وہاں سے حاصل شدہ سودی منافع کو ادارے کی آمدنی کا حصہ بناتے ہیں۔ کئی ادارے پراویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی یا پنشن اسکیمز میں ملازمین کی رقوم کو سودی نظام کے تحت چلاتے ہیں۔میری گزارشات درج ذیل سوالات کی صورت میں ہیں:1۔کوئی نجی ادارہ یا کمپنی جو سودی نظام پر انحصار کرتی ہے یا سودی منافع حاصل کرتی ہے، اس کی آمدنی شرعاً حلال سمجھی جا سکتی ہے2۔ایسے ادارے سے تنخواہ لینا یا وہاں ملازمت اختیار کرنا جبکہ معلوم ہو کہ آمدنی کا بڑا حصہ سودی منافع پر مبنی ہے – کیا یہ جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ سود ایسا جرم عظیم ہے جس کے کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالی اوراس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے،چنانچہ کسی فرد یا ادارے کے کاروبارکا انحصار اگرسود کی رقم پرہوتو ان کا کاروبار شرعاً ناجائز ہے او راس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال نہیں،اور جوملازمین ان کے ساتھ کام کرتے ہیں تو اگران کا کام حلال ہواور جائز عمل پراجرت لیتے ہوں توان کی آمدنی حلال ہے تاہم جتنا جلد ہوسکے شبہات سے پاک کوئی اورذریعہ آمدنی تلاش کرنا چاہیے ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی نجی ادارے یا کمپنی کا انحصار سودی نظام پر ہویا سودی منافع لیتے ہوں توان کی آمدنی حلال نہیں ،جہاں تک ان کے ملازمین کی تنخواہ کی بات ہے توچونکہ ملازمین اپنےعمل کے عوض تنخواہ لیتے ہیں تواگران کا عمل جائزاور حلال ہوتوان کی تنخواہ بھی حلال ہے لیکن جتنا جلد ہوسکے کوئی اور ذریعہ آمدنی تلاش کریں تاکہ آمدنی شبہات سے بالکل پاک رہے لیکن اگر ان کاعمل ناجائزہو مثلاً سودی معاملہ کے لکھنے، گواہ بننے، مفاہمت کرنے اور تعاون میں شریک ہوں توان کی آمدنی حلال نہیں، دوسری حلال ذریعہ آمدنی تلاش کرنے کے بعد جتنی رقم حرام مال میں سے لی ہواتنی مقدار کواپنے وسعت کے بقدرصدقہ کرے۔
قال الله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾ [البقرة: 275]
﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ [البقرة: 279]
حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود
عن أبيه، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.(سنن أبي داود،باب في آكل الرباوموكله،ج:5،ص:222،رقم الحدیث:3333)
وإذا مات الرجل وكسبه خبيث فالأولى لورثته أن يردوا المال إلى أربابه فإن لم يعرفوا أربابه تصدقوا به. (الفتاوى الهندية، کتاب الکراهية، الباب الخامس عشر في الکسب، ج:5، ص:349)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں